امت نیوز ڈیسک //
ممبئی: نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے بدھ کے روز کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن، جن کی تعداد 20 ملین ہے، نے بھارت کی قومی سلامتی اور خودمختاری کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دھنکھر نے کہاکہ "جب ہماری سرحد کا تقدس غیر قانونی تارکین وطن کے ذریعہ پامال ہوتا ہے، تو یہ امن و امان کا سوال نہیں ہے بلکہ ہماری بقا اور قومی سالمیت کا سوال ہے۔”
وہ ممبئی میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پاپولیشن سائنسز (IIPS) کے کانووکیشن کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ لوگ ہمارے قومی وسائل کو استعمال کرتے ہیں اور ہماری نوکریاں بھی لے لیتے ہیں۔ وہ ہماری قومی سلامتی اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔”
دھنکھر نے طلباء سے کہاکہ "ہمیشہ ایسے چیلنجوں سے ہوشیار رہیں جب آبادیاتی توازن میں ہیرا پھیری کی جاتی ہے، نامیاتی ارتقاء کے ذریعہ نہیں بلکہ خوفناک، منظم ڈیزائن کے ذریعہ۔” انہوں نے کہا کہ اب یہ ہجرت کا سوال نہیں بلکہ آبادیاتی حملے کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ "بھارت کو اس کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں 20 ملین سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ کیا ہم ان کو برداشت کر سکتے ہیں؟ ہمیں اس ملک میں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ہماری تہذیب کے لیے پرعزم ہوں۔”
صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت انوپریہ پٹیل کانووکیشن تقریب میں موجود تھیں۔ دھنکھر اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر سدیش دھنکھر نے بھی اپنی آنجہانی ماؤں کیسری دیوی اور بھگوتی دیوی کی یاد میں آئی آئی پی ایس کے احاطے میں پودے لگائے۔










