امت نیوز ڈیسک //
سعودی عرب میں سفر حج کو لے کر اس مرتبہ کافی سختی برتی جا رہی ہے۔ حکومت سعودی عرب نے بھی واضح کر دیا ہے کہ بغیر اجازت کوئی بھی مکہ میں قدم نہیں رکھ سکے گا۔ اسی کے تحت اب تک بغیر پرمٹ کے حج کرنے کی کوشش کر رہے 2 لاکھ 69 ہزار 678 افراد کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ افسروں نے اتوار کو اس کی تصدیق کی اور حج ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانہ اور کارروائی کی جانکاری دی۔
مکہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے افسروں نے بتایا کہ گزشتہ سال شدید گرمی میں مرنے والوں کی تعداد ایسے ہی بغیر اجازت آنے والوں کی تھی۔ افسروں نے آگے بتایا کہ 23000 سے زیادہ سعودی باشندوں پر بھی حج ضابطوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے جرمانہ لگایا گیا ہے جبکہ حج سے جڑی 400 کمپنیوں کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا ہے۔
حج میں حفاظت کے پیش نظر پہلی بار ڈرون کا استعمال
اس سال حج میں تحفظ کو دیکھتے ہوئے پہلی بار ڈرون کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں سعودی ڈیفنس نے کہا کہ تکنیک کا استعمال حج کو محفوظ اور منظم بنانے میں مدد کرے گا۔ وہیں لیفٹیننٹ جنرل محمد العماری نے کہا کہ ہر ایک مسافر ہماری نظر میں ہے اور جو ضابطہ توڑے گا وہ ہمارے قبضے میں ہوگا۔ فی الحال 14 لاکھ عازمین حج سرکاری طور سے مکہ پہنچ چکے ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید لوگوں کے پہنچنے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ سعودی حکومت کے ضابطوں کے مطابق بغیر اجازت حج کرنے والے شخص کو 5000 امریکی ڈالر تک کا جرمانہ اور بے دخلی جیسے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
12 لاکھ سے زائد عازمین اب تک سعودی عرب پہنچ چکے ہیں
سعودی افسران کے مطابق رواں سال حج کے لیے اب تک 12 لاکھ سے زائد عازمین سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ ’اے ایف پی‘ کو سعودی عرب کے وزیر حج توفیق الربیعہ نے 29 مئی کو بتایا کہ رواں سال حج سے قبل افسران اور منتظمین کے درمیان صحرا کی شدید گرمی کو کم کرنے کی کوشش کے متعلق بات ہوئی تھی۔ کیونکہ گزشتہ سال حج کے دوران شدید گرمی کی وجہ سے کئی عازمین کی موت ہو گئی تھی۔ رواں سال گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے افسران نے 40 سے زائد سرکاری ایجنسیوں اور 250،000 افسران کو اکٹھا کیا ہے اور گرمی سے متعلقہ خطرات کو کم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو دوگنا کر دیا ہے۔









