امت نیوز ڈیسک //
ملک کی 16 سیاسی جماعتوں نے آپریشن سندورپر بحث کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو مشترکہ طور پر خط لکھا ہے۔ ان تمام جماعتوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے اور آپریشن سندور پر بحث کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں اے آئی ٹی ایم سی کے لیڈر ڈیرک اوبرائن نے کہاکہ ہم سب یہاں ہیں، تمل ناڈو میں آج ایک اہم دن ہے، آنجہانی کروناندھی کی 102ویں سالگرہ ہے، اس لیے ڈی ایم کے کا کوئی رکن پارلیمنٹ نہیں آسکا، پھر بھی 16 پارٹیوں نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں میں کانگریس، ایس پی، اے آئی ٹی سی، ڈی ایم کے، شیو سینا (یو بی ٹی)، آر جے ڈی، جے کے این سی، سی پی آئی (ایم)، آئی یو ایم ایل، سی پی آئی، آر ایس پی، جے ایم ایم، وی سی کے، کیرالہ کانگریس، ایم ڈی ایم کے، سی پی آئی (ایم ایل لبریشن) شامل ہیں۔حالانکہ شرد پوار کی پارٹی نے اس میں شمولیت اختیار نہیں کی۔
ادھرسماج وادی پارٹی کے لیڈر رام گوپال یادو نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ سفارتی محاذ پر وزیر اعظم گزشتہ کئی سالوں سے کئی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں، لوگوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں لیکن ان کے نام نہاد دوست ‘مسٹر ٹرمپ’ نے جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ یہ چیزیں ملک کے لیے تشویشناک ہیں۔ ان مسائل پر بحث ضروری ہے۔ ٹرمپ کے اعلان سے دنیا میں ہندوستان کا وقار کم ہوا ہے۔ اس پر بحث ضروری ہے، پارلیمنٹ کا اجلاس بلانا ضروری ہے۔سنجے راوت نے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم مودی کو جو خط بھیجا ہے اس پر اہم اپوزیشن جماعتوں کے دستخط ہیں۔ یہ کوئی عام خط نہیں ہے۔ اپوزیشن جماعتیں ملک کے عوام کی آواز ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں (پہلگام میں) جو کچھ ہوا اس پر خصوصی سیشن منعقد کیا جائے تو ملک کا وقار قائم رہے گا اور شہریوں کو جوابات ملیں گے۔ اگر وہ صدر ٹرمپ کی درخواست پر جنگ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں تو ہم اپوزیشن جماعتوں کی درخواست پر خصوصی اجلاس بھی منعقد کر سکتے ہیں۔ کیا ہمیں اس کے لیے صدر ٹرمپ کے پاس جانے کی ضرورت ہے؟










