امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: پارلیمنٹ کا مانسون سیشن 21 جولائی سے شروع ہوگا۔ مرکزی وزیر پارلیمانی امور کرن رجیجو نے بدھ کو اس بات کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مانسون سیشن 21 جولائی سے شروع ہوکر12 اگست تک چلے گا۔ جانکاری کے مطابق، آپریشن سندور پر بھی حکومت ضوابط کے تحت بحث کرنے کو تیار ہوگئی ہے۔
تین ماہ سے زیادہ کے بریک کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوان 21 جولائی کو صبح 11 بجے بلائے جانے والے ہیں۔ اس سے پہلے پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن اس سال 31 جنوری کو شروع ہوا تھا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کو 4 اپریل کو غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا تھا، جس سے 2025 کا پہلا پارلیمنٹ سیشن ختم ہوگیا تھا۔
آپریشن سندور پر بھی کیا جائے گا تبادلہ خیال
کرن رجیجونے بتایا کہ سیشن کے دوران آپریشن سندورپربھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مرکزی وزیرکرن رجیجونے کہا کہ ہر سیشن خاص ہوتا ہے اورہم آپریشن سندورسمیت سبھی موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ سبھی کو ساتھ لیا جائے۔ ہم نے اپوزیشن سے رابطہ کیا ہے اورامید ہے کہ ہرکوئی اتحاد کا رخ اپنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضوابط کے تحت سبھی موضوعات پر مانسون سیشن کے دوران تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
آپریشن سندور پرنہیں ہوگا خصوصی سیشن
جہاں ایک طرف اپوزیشن پارٹیاں مسلسل حکومت سے آپریشن سندور سے متعلق خصوصی سیشن بلانے کا مطالبہ کررہی تھیں اور 16 پارٹیوں نے حال ہی میں وزیراعظم مودی کو خط لکھا تھا۔ وہیں دوسری طرف حکومت نے اسی درمیان مانسون سیشن کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ اپوزیشن کے مسلسل مطالبہ کے بعد بھی آپریشن سندور پر خصوصی سیشن نہیں ہوگا۔ اپوزیشن مسلسل آپریشن سندور، سیزفائراورامریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے کئے جا رہے دعووں سے متعلق اسپیشل سیشن بلانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اوراپوزیشن مسلسل حکومت سے سوال پوچھ رہا تھا۔ حالانکہ اب مانسون سیشن کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے۔










