امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر و لداخ کی ہائی کورٹ نے دو افراد کے خلاف اُن کی معمر پھوپھی پر حملے کے الزام میں درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ فوجداری عدالتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی کارروائیوں کو اس مقصد کے لیے استعمال نہ ہونے دیں کہ کوئی فریق عائلی تنازعات کو مجرمانہ رنگت دے کر مخالف کو دباؤ میں لائے۔
جسٹس سنجے دھر نے 13 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں کہا کہ شکایت کنندہ نے عائلی تنازع کو فوجداری مقدمہ بنا کر پیش کیا، اور یہ کہ حملہ (assault) اور ناجائز تجاوز (trespass) کے الزامات سے ’’کسی قابل دست اندازی جرم کا ارتکاب ظاہر نہیں ہوتا۔‘‘
مقدمہ اور الزامات
راجہ آصف فاروق اور شوکت احمد وانی پر تعذیرات ہند کی دفعہ 354 (خاتون کی عزت مجروح کرنے کے ارادے سے حملہ) اور 447 (غیرقانونی داخلہ، ناجائز تجاوز) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم عدالت نے کہا: ’’ایف آئی آر اور تحقیقات کے دوران اکٹھے کیے گئے شواہد دفعہ 354 کے تحت جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔‘‘
ہائی کورٹ نے کیس کو عائلی تنازعہ قرار دیا
ہائی کورٹ نے کیس کو عائلی تنازعہ قرار دیا (ہائی کورٹ)
عدالت نے مزید کہا کہ شکایت کنندہ کے قبضے میں زمین ہونے کا کوئی ریونیو ریکارڈ موجود نہیں، اس لیے دفعہ 447 کا اطلاق بھی ممکن نہیں۔ یہ مقدمہ 8 نومبر 2020 کو درج ایف آئی آر سے شروع ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ شکایت کنندہ، جو اپنی زمین پر کام کر رہی تھیں، پر اُن کے بھتیجے داخل ہوئے، گالیاں دیں، اور ایک نے اُسے دھکا دیا جس سے اُن کا دوپٹہ اتر گیا، جو اُن کے مطابق ان کی ’’عزت پر حملہ‘‘ تھا۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ یہ واقعہ فوجداری نیت کے زمرے میں نہیں آتا۔ جسٹس دھر نے لکھا: ’’اگر کسی خاتون پر محض حملہ یا جسمانی طاقت استعمال کی جائے، مگر مجرم کا ارادہ عزت پامال کرنے کا نہ ہو، تو دفعہ 354 کا اطلاق نہیں ہوتا۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ مدعیہ (عرضی گزار) کی عمر اور قریبی رشتہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ مجرموں کا ایسا کوئی ارادہ تھا۔
جہاں تک غیرقانونی داخلے کا تعلق ہے، عدالت نے کہا کہ زمین پہلے ہی کئی دیوانی اور ریونیو عدالتوں کے عبوری احکامات کے تحت ہے، اس لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ متاثرہ کے قبضے میں زمین تھی، جو یہاں ثابت نہیں ہوتا۔
عدالت نے مقدمے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ (جو دورانِ سماعت وفات پا چکی تھیں) نے دیوانی تنازع کو فوجداری رنگ دے کر عدالت کو استعمال کرنے کی کوشش کی، جو کہ ایک غلط عمل ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے محمد ابراہیم بنام ریاست بہار کیس میں دیوانی مقدمات کو فوجداری مقدمات میں بدلنے کے خلاف خبردار کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس دھر نے کہا کہ ’’یہ رجحان روکا جانا چاہیے۔‘‘
آخر میں عدالت نے ایف آئی آر نمبر 266/2020 کو منسوخ کرتے ہوئے مقدمہ ختم کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ اس کیس کو جاری رکھنا انصاف کے عمل کا غلط استعمال ہوگا۔









