امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ بھارت نے ایران میں پھنسے ہوئے اپنے طلبہ کو نکالنے کے لیے انخلا کا عمل تیز کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے تحت منگل کو ایران کی میڈیکل یونیورسٹی ارومیہ میں زیر تعلیم تقریباً 110 بھارتی طلبہ، جن میں 90 کا تعلق وادی کشمیر سے ہے، ایران سے سرحد پار کرتے ہوئے آرمینیا میں داخل ہو گئے۔
ان طلبہ کو آرمینیا کے دارالحکومت یریوان پہنچنے کے بعد پہلے سے منتخب ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔ جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق تمام طلبہ محفوظ ہیں اور ان کی واپسی کے انتظامات مکمل کیے گئے ہیں۔
مرکزی وزارت خارجہ کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ طلبہ کے تمام ہوائی ٹکٹ حکومت ہند نے مکمل طور پر مفت فراہم کیے ہیں۔ ساتھ ہی کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے دہلی سے سرینگر تک کی فلائٹس کے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کی واپسی کا عمل مکمل ہو سکے۔
واپسی کا شیڈیول:
آفیشلز کے مطابق، پہلا مرحلہ 18 جون 2025 کو صبح 8:45 بجے یریوان ایئرپورٹ (EVN) سے اس وقت شروع ہوا جب طلبہ انڈیگو فلائٹ 6E 9483 پر دوحہ (حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، DOH) روانہ ہوئے۔ پرواز دوپہر 2:05 بجے دوحہ پہنچنے کی توقع ہے۔
دوحہ سے دوسرا مرحلہ دوپہر 3:05 بجے انڈیگو فلائٹ 6E 9487 پر دہلی (اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ٹرمینل 3) روانہ ہوگا، جو رات 10:15 بجے دہلی پہنچے گی۔
چیک ان اور بیگیج ڈراپ کا وقت بھی جاری کر دیا گیا ہے، اور معمولی تاخیر کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن مسلسل حالات کی نگرانی کر رہی ہے اور متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے تاکہ طلبہ کی واپسی بخیر و خوبی مکمل ہو۔
ادھر، طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ نے حکام کی بر وقت مداخلت پر شکریہ ادا کیا ہے۔ وہیں اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی ہے کہ باقی طلبہ کو بھی جلد از جلد بحفاظت وطن واپس لایا جائے گا۔










