(دبئی)خلیجی ریاستوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے تین ایرانی جوہری تنصیبات: اصفہان، نطنز اور فردو کو’’مڈ نائٹ ہیمر‘‘کے نام سے حملوں کے ذریعے نشانہ بنانے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
22 جون کی صبح کے حملے نے چھ ملکوں کے درمیان تشویش پیدا کردی ہے۔ ان ملکوں کا خیال تھا کہ خطے میں جو کچھ ہوا اس سے تناؤ بڑھے گا اور سلامتی اور استحکام پر اثر پڑے گا۔ خاص طور پر دونوں فریقوں کے درمیان باہمی ردعمل کی روشنی میں استحکام شدید متاثر ہوگا۔
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل جاسم البداوی نے کہا کہ جی سی سی خطے میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق جی سی سی کی وزارتی کونسل کے 48ویں غیر معمولی وزارتی اجلاس کے جاری کردہ بیان کے مندرجات کی تصدیق کرتا ہے۔ جی سی سی ان تمام اقدامات کی مذمت کرتا ہے جو خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
انہوں نے فوری جنگ بندی کی ضرورت پر دیا۔ انہوں نے تمام فریقوں سے کشیدگی میں کمی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے، تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر اپنانے اور خطے اور اس کے لوگوں کو جنگ کے خطرات سے بچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسی تناظر میں سعودی عرب نے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کا اعادہ کیا اور امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ سعودی عرب نے تحمل، پرسکون اور کشیدگی سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔
’’ ایکس‘‘ پر سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں لکھا گیا کہ سعودی عرب کی مملکت بڑی تشویش کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران میں ہونے والی پیش رفت کو دیکھ رہی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سعودی موقف قطر کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر افسوس کے اظہار کے موافق ہے۔ دوحہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد ہونے والی پیش رفت پر بڑی تشویش میں مبتلا ہے۔ دوحہ نے تمام فوجی کارروائیوں کو روکنے اور بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے فوری طور پر مذاکرات اور سفارتی ذرائع کی طرف لوٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔
آج ایک بیان میں قطری وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں اس وقت جو خطرناک کشیدگی دیکھی جا رہی ہے اس کے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
کویتی وزارت خارجہ نے بھی اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے ایران میں پے در پے ہونے والے حملوں اور کئی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ کویتی وزارت خارجہ نے کہا یہ ایک خطرناک پیش رفت ہے اور اس سے خطے اور دنیا کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ ہے۔ ایک بیان میں وزارت خارجہ نے 13 جون 2025 کو جاری کردہ اپنے بیان پر اسرائیل کے ایران پر حملے کو تہران کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ۔
بحرین کی وزارت خارجہ نے بھی آج اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ خطے میں ہونے والی پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔اس نے کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کو روکنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی مشترکہ کوششوں اور امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کو تیز کرنے پر زور دیا تاکہ موجودہ بحران کو سفارتی اور پرامن طریقوں سے حل کیا جا سکے۔
ایران میں تیز رفتار پیش رفت کے درمیان سلطنت عمان نے جاری واقعات کو تشویشناک قرار دیا۔ اس نے اسلامی جمہوریہ ایران میں ایٹمی سائٹس کے خلاف امریکہ کے براہ راست فضائی حملوں کی مذمت کی اور انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے۔ عمان نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر کشیدگی کو کم کیا جائے۔
ابوظبی نے بھی اسی طرح کے موقف کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں جاری کشیدگی اور ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ یو اے ای نے خطرناک اثرات سے بچنے اور خطے میں عدم استحکام کی نئی بلندیوں پر پہنچنے سے بچنے کے لیے فوری طور پر کشیدگی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایک بیان میں متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے استحکام، خوشحالی اور انصاف کے حصول کے لیے تنازعات کو جامع انداز میں حل کرنے کے لیے سفارت کاری اور بات چیت کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس نے بین الاقوامی برادری سے ان حساس اور خطرناک پیش رفتوں کے ایک جامع حل تک پہنچنے کے لیے کوششوں کو متحرک کرنے کا مطالبہ کیا۔
یار رہےاتوار کی صبح ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے ذریعے فردو، نطنز اور اصفہان کے جوہری تنصیبات پر بمباری کی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکی حملہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے حملوں کے پیچھے اصل محرک واشنگٹن ہے۔ بحران میں واشنگٹن کی شمولیت واضح طور پر اسرائیلی نااہلی کی عکاسی کر رہی ہے۔










