5 اگست 2019ء کو جب جموںو کشمیر کو خصوصی پوزیشن سے محروم کر دیا گیا تب اس سابقہ ریاست کو دو حصوں میں بانٹنے کےساتھ اختیارات کو کم کرتے ہوئے مرکزی زیر انتظام والے علاقے تبدیل کیا گیا ۔ تاہم اس وعدے کے ساتھ کہ جموں وکشمیر یوٹی عارضی طور پر رہے گی۔
وزیر اعظم مودی اوروزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ کے ایوان سے لیکرجموںو کشمیرکی انتخابی ریلیوں تک کئی مرتبہ یہ بات دہرائی کہ پہلے حد بندی، اسکے بعد الیکشن اور پھر ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔تاہم اگر چہ حد بندی اور الیکشن ہو گئے لیکن ریاستی درجے کی بحالی ابھی تک نہیں ہو پائی۔
7 جون کو کٹرا میں چناب ریلوے پل کے افتتاح کے موقع پر عمر عبداللہ نے براہ راست وزیر اعظم مودی سے ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ عمر عبداللہ نے خطاب میں کہا کہ” میں، ایک مکمل ریاست کے وزیر اعلی کے طور پر، تھوڑا سا تنزلی کا شکار ہوں۔ میں ایک ریاست کا وزیر اعلیٰ تھا، اب میں ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے کا وزیر اعلیٰ ہوں۔“ وزیر اعلی نے مزید کہا کہ ”لیکن مجھے یقین ہے کہ اسے درست ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ اور آپ(وزیر اعظم) کی مدد سے جموں و کشمیر ایک بار پھر ریاست کا درجہ حاصل کر لے گا۔“
اب اِس وقت جموںو کشمیر میں ریاستی درجے کی بحالی کی خبریں گردش کر رہی ہیں لیکن شرط کیساتھ۔اس حوالے سے ایک مقامی انگریزی اخبار میں شائع رپورٹ میں مرکزی وزارت داخلہ کےذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے کہ مرکزی سرکار ریاستی درجہ موجودہ منتخب سرکار کی مدت مکمل ہونے کے بعد کرے گی یاپھر اگر آج موجودہ سرکار میں ہی ریاستی درجہ بحال کرتی ہے تو پھر اسمبلی الیکشن بھی دوبارہ کرائے گی۔ کیوں کہ موجودہ الیکشن جموں وکشمیر یوٹی کے تحت ہوئے ہیں۔
وہیں جموں وکشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ کی طرف سے ا س رپورٹ پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ عمر عبداللہ نے الزام عائد کیا کہ ان رپورٹس کے زریعے ایم ایل ایز کو ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ’’ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے اگر قانون ساز اسمبلی کو تحلیل کرنا پڑے اور جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے بعد نئے انتخابات کرائے جائیں۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’میں نے ایک اخبار میں پڑھا ہے کہ ریاست کی حیثیت بحال ہو جائے گی لیکن اسمبلی انتخابات نئے سرے سے ہونے چاہئیں۔۔۔ انہیں کرنے دیں، انہیں کس نے روکا ہے۔‘‘ مذکورہ اخبار کی رپورٹ پر سوال کھڑا کرتے ہوئےوزیر اعلیٰ نے کہا کہ’’میں جانتا ہوں کہ کہانی کہاں سے آئی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ یہاں کے ایک اخبار میں کہانی کس نے لگائی ہے۔۔۔ یہ صرف ایم ایل ایز کو ڈرانے کے لیے لگائی گئی ہے۔ یہ ریاست کا درجہ کسی ایم ایل اے یا حکومت کے لیے نہیں ہے۔ یہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے ہے اور ہم ایم ایل اے اس میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ ‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ’’اگر ایم ایل ایز کو ریاست کی بحالی کے لیے اسمبلی تحلیل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، تو ایسا کریں، جس دن ریاست دوبارہ قائم ہو گی، اگلے دن ہم گورنر کے پاس جائیں گے اور اسمبلی کو تحلیل کرنے کی سفارش کریں گے۔ ہمیں ڈرانے کی کوشش نہ کریں۔۔۔ ریاست ہمارا حق ہے اور اسے واپس دو۔ اخبارات میں کہانیاں لگانا بند کرو۔“
یاد رہے کہ اسمبلی الیکشن کے بعد کئی مرتبہ نیشنل کانفرنس کے ایم ایل ایز کی طرف سے یہ آوازیں اٹھائی جانے لگی کہ وہ یوٹی کے تحت کچھ کر ہی نہیں پا رہے اور انکی افسران سنتے بھی نہیں۔ جبکہ خود ایک پوڈ کاسٹ میں عمر عبداللہ نے ’’بے اختیار وزیر اعلی‘‘ ہونے کی کہانی بیان کی۔ عمر عبداللہ نے معروف قانون دان کپل سبل کے پوڈ کاسٹ میں کہا کہ نوکر شاہی اب اتنی عجلت کے ساتھ کام نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ ’’جب میں ریاست کا وزیر اعلی تھا، جب میں کسی افسر سے کہتا تھا کے یہ کرنا ہے۔ وہ مجھ سے 10 طریقے بتاتا تھا کس طرح کام ہو سکتا ہے، آج جب میں کسی افسر کو کہتا ہوں تو وہ اس کام کے نہ ہونے کے دس وجوہات بتاتا ہے۔“
وہیں دوسری طرف سے ایل جی اور وزیر اعلی کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی بھی جاری ہے۔دریں اثنا کولگام میں ایک تقریب کے دوران ایل جی نے نیشنل کانفرنس کی کابینہ وزیر سکینہ ایتو کی موجودگی میںکہا کہ’’ اسوقت ان(ایل جی)کے اختیار میں صرف پولیس ہے اور دیگر سبھی محکمے یہاں کی منتخب سرکار کے پاس ہیں۔ ‘‘لیکن اسکے بعد ہی ایل جی نے پہلگام حملے میں سیاحوں کی جان بچانے کے دوران مارے گئے عادل حسین شاہ کی اہلیہ کو سرکاری نوکری کا تقرری نامہ سونپا۔ جس کے بعد این سی رکن اسمبلی تنویر صادق نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ تقرری نامہ محکمہ فشریز نے تیار کیا جو یہاں کی منتخبہ سرکار کے اختیار میں ہے ۔ اس پر ایل جی آفس نے جواباً کہا کہ ایل جی نے اپنے اختیارات کا استعمال کر کے تقرری نامہ سونپا۔ اسکے بعد تنازعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تنویر صادق نے صحافیوں کو بتایا،’’یا تو ایل جی نے جنوبی کشمیر میں جو کہا وہ سچ ہے، یا بعد میں ان کے دفتر نے جو دعویٰ کیا وہ سچ ہے- دونوں درست نہیں ہو سکتے۔ اگر وہ صرف محکمہ داخلہ کو کنٹرول کرتا ہے تو انہوں نے تقرری کیسے جاری کی؟ اگر انہوں نے ایسا کیا تو یہ واضح طور پر مداخلت کی نشاندہی کرتا ہے۔‘‘
دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں این سی پر الزام لگا رہی ہیں کہ حکومت اب ریاستی درجے کا بہانہ بنا رہی ہے اور اسکی طرف سے الیکشن میں دئے گیے وعدوں کو وفا کرنے میں ناکام ثابت ہو گئی ہے۔
امور کشمیر پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ قوی امکان ہے کہ 15 اگست کو جموں وکشمیر کے لیے ریاستی درجہ کی بحالی کا اعلان کیا جائے گا۔ اور اس ضمن میں آئینی و قانونی لوازمات کی جانچ ہورہے ہے۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ریاستی درجے کی بحالی کے لیے نئے الیکشن ہوتے ہیں یا کوئی اور قانونی راستہ نکالا جائے گا۔









