امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کی ایک مقامی عدالت نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید الرحمان پرہ کے خلاف انتخابی جلسے کے دوران ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر درج مقدمہ یہ کہہ کر خارج کر دیا کہ ’’قانونی بنیادوں کی عدم موجودگی میں کوئی کارروائی ممکن نہیں۔‘‘ یہ مقدمہ اس وقت درج کیا گیا تھا جب پرہ پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے 27 اپریل 2024 کو پلوامہ کے متعدد دیہات – جن میں پدگام پورہ، لارکی پورہ، ڈانگر پورہ، بیگ پورہ، جنگل ناڈ، کھانڈے پورہ اور پنزگام شامل ہیں – میں بغیر پیشگی اجازت کے روڈ شو منعقد کیا، جو مبینہ طور پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تھی۔
لیکن ایڈیشنل اسپیشل موبائل مجسٹریٹ، اونتی پورہ، منیر احمد بٹ نے پانچ صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ دفعہ 188 تعزیرات ہند کے تحت عدالت تب تک مقدمہ سن ہی نہیں سکتی جب تک متعلقہ سرکاری افسر تحریری طور خود شکایت درج نہ کرے۔
مجسٹریٹ نے وضاحت کی کہ فوجداری ضابطہ اخلاق (CrPC) کی دفعہ 195 کے مطابق شکایت کا مطلب ہے کہ کوئی سرکاری افسر براہ راست مجسٹریٹ کو تحریری طور پر شکایت دے۔ پولیس رپورٹ اس کے متبادل کے طور پر قابل قبول نہیں۔
ضابطہ اخلاق ’قانون‘ نہیں
عدالت نے واضح کیا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کوئی قانونی ہدایت نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے لیے رہنما اصول ہیں، جن کی خلاف ورزی کو تعزیرات ہند کی دفعہ 188 کے تحت جرم نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے نوٹ کیا: ’’ضابطہ اخلاق کو کبھی بھی دفعہ 188 کے تحت سرکاری حکم نہیں مانا جا سکتا، یہ محض ایک ضابطہ ہے جو قانونی طور پر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
عدالت نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ اگر ضابطہ اخلاق کو باضابطہ حکم بھی مانا جائے، تب بھی مقدمے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کس سرکاری افسر نے اسے جاری کیا تھا – جو کہ قانوناً لازم ہے۔
پرہ کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ یہ مقدمہ طریقہ کار کی سنگین خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ عدالت نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیا، جن میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 188 کے تحت مقدمہ صرف اور صرف دفعہ 195 CrPC کے تحت سخت قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے کیا مقدمہ خارج
عدالت نے وحید پرہ کے خلاف چالان خارج کرتے ہوئے ان کی ضمانت اور ذاتی مچلکے پر ختم کرنے کا حکم دیا۔ عدالتی حکم میں کہا گیا: ’’چالان منسوخ کیا جاتا ہے، ملزم کو بری کیا جاتا ہے۔ تمام ضمانتی دستاویز اور ضبط شدہ سامان متعلقہ حقدار کو واپس کیا جائے۔‘‘










