وادی کشمیرہمیشہ سے مذہبی رواداری اور مسلکی ہم آہنگی کا گہوارہ رہی ہے۔ یہاں ہر مذہب، اور مسالک کے ماننے والے ایک دوسرے کا احترام کرتے آرہے ہیں۔جب وادی سے باہر کی دنیا مذہبی منافرت اور مسلکی تفرقہ کی لپیٹ میں رہا ،کشمیربھائی چارگی اور ایک دوسرے کی حرمت کی مثال کے طور ابھرا ہے۔ لیکن اب چند بہی خواہ حضرات نے اس ’پیر وآر‘ کے خرمن امن میں فتنہ کی حد تک تفرقہ کو اُبھار دیا ہے، جو نہ صرف کشمیر کے امن کو بھسم کرکے رکھ دے گا بلکہ یہاں کے عوام کی مذہبی شناخت کو میں مسل کررکھ دے گا۔
کشمیر میںاسلام کے نام پر ایک گدھ نما گروہ اُمڈ آیا ہے جن کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ یہاں کے آبادکاروںکو دین اسلام کے صحیح عقائد سے پرے کرکے فتنہ آور دروس میں غرق کردیں۔ غیر ضروری بحثوں میں لوگوں کو الجھائے رکھنے سے ان لوگوں کی روزی روٹی تو ممکن ہوپا رہی ہے ساتھ ہی مذموم مقاصد کے حصول کی تکمیل بھی ہورہی ہیں، جس کے لیے اس گروہ کو معمور کرکے رکھ دیا گیا ہے!
کشمیر کا المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں ہر گلی کوچے میں اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد تعمیر کرکے رکھ دی گئی ہیں، جہاںخود ساختہ توحید پرستی اور غیر مقلدکا وعظ لوگوں کو سنوایا جارہا ہے۔ ان مساجد میں دعوت دین سے زیادہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز فتویٰ بازی ہوتی رہتی ہیں۔
ہمارے علماء جو اس ضمن میںاب گزشتہ عشرسے مسلسل میٹنگیں کرتے آرہے ہیں، بیان بازی سے آگے نہیں بڑھ پارہے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شریک جرم نہ ہوتے تو فتنہ پرور گرہ سے قوم کی پہلے ہی آگہی کرتے تاکہ بروقت ٹھوس کاروائی ہوتی۔ بقول علامہ اقبالؔ ؎
میں جانتا ہوں انجام اُس کا
جس معرکے میں مُلّا ہوں غازی









