تحریر: زین العابدین رینہ، گنڈ سونمرگ
(سیاحت کے ماہر و سماجی مبصر)
جموں و کشمیر تیزی سے صاف توانائی کی طرف بڑھ رہا ہے، خاص طور پر ہائیڈرو پاور پالیسی 2025 کے تحت۔ اس پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان علاقوں پر توجہ دیں جہاں فطرت نے بجلی پیدا کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھی ہے۔ ان میں گنڈ اور کنگن کے علاقے ضلع گاندر بل میں سب سے اہم ہیں۔
یہ علاقے نالہ سندھ کے کنارے واقع ہیں، جو سونمرگ کی برفانی چوٹیوں سے نکلتی ہے۔ سربل سے ویئل تک تقریباً ہر گاؤں اس پانی کے نظام سے جڑا ہے۔ یہاں کی زمین، ڈھلوان اور بہتا پانی رن آف ریور، مائیکرو اور درمیانے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے لیے مثالی ہے۔
ماضی سے سبق
اس خطے نے پہلے بھی ہائیڈرو پاور میں کامیابی دیکھی ہے۔ اپر سندھ ہائیڈل پراجیکٹ-I (USHP-I)، جو 1960 کی دہائی کے آخر میں قائم ہوا، اس علاقے کی معیشت اور روزگار کے لیے ایک انقلاب ثابت ہوا۔ اس کے بعد USHP-II (1980 کی دہائی) نے اس روایت کو مزید مضبوط کیا۔
آج بھی لوگ ان منصوبوں کو یاد کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے علاقے کی ترقی کی بنیاد رکھی۔ تاہم، گزشتہ کچھ برسوں میں چند چھوٹے پراجیکٹس ضرور بنے، مگر 150–200 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی اصل صلاحیت ابھی بھی پوری طرح استعمال نہیں ہوئی۔
پالیسی اور عملی اقدامات
ہائیڈرو پاور پالیسی 2025 نے چھوٹے اور درمیانے منصوبوں، آسان الاٹمنٹ، عوامی-نجی شراکت داری اور مقامی روزگار پر زور دیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم ماضی کی کامیابی کو دہرا کر USHP ماڈل کو جدید اور پائیدار طریقے سے اپنائیں۔
گنڈ اور کنگن کی خصوصیات:
- سال بھر پانی کی دستیابی
- قدرتی ڈھلوان، بجلی کے بہاؤ کے لیے موزوں
- کم سے کم زمین بے دخلی
- پہلے سے موجود گرڈ سسٹم
- سیاحت اور توانائی کو ساتھ جوڑنے کے مواقع
آگے کی راہ
اگر بروقت اور اسٹریٹیجک سرمایہ کاری کی جائے تو گاندر بل ضلع پورے جموں و کشمیر کا ماڈل کلین انرجی ضلع بن سکتا ہے۔ یہ بھارت کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اور Net Zero 2070 مشن سے بھی ہم آہنگ ہوگا۔
نتیجہ
گنڈ اور کنگن کی ہائیڈرو پاور صلاحیت کوئی خواب نہیں، یہ ایک حقیقت ہے۔ ہمیں صرف پالیسی پر عمل اور تیز رفتار منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
پانی بہتا ہی رہے گا، سوال یہ ہے: کیا ہم اسے یوں ہی گزرنے دیں گے؟ یا اسے اپنی ترقی اور خود کفالت کی روشنی میں بدلیں گے؟










