پارلیمنٹ میں آپریشن سندور کے حوالے سے دفاعی اور سیاسی معاملات پر شدید بحث ہوئی۔ کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ اجلاس کے آغاز پر لوک سبھا میں نعرے بازی کی جس دوران اجلاس کی کارروائی کو کئی بار ملتوی کروایا گیا۔
حکومت کی طرف سے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بیان دیا کہ ’’آپریشن سندور مسلح افواج کی خدمات کی بہترین مثال ہے، جس کے تحت پاکستان کی ہر حرکت کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔‘‘ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ آپریشن سندور کسی کے دباؤ میں نہیں بلکہ مقصد کے حصول کے بعد روکا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دے کر کہا کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔
اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے لوک سبھا اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پانچ بھارتی طیارے گرنے کے بیان پر اگروزیر اعظم مودی میں دم ہے تو پارلیمنٹ میںاپنے خطاب میں کہہ دیں کہ ٹرمپ نے جھوٹ بولا ۔وزیر اعظم مودی کہیں کہ بھارت نے جنگ بندی نہیں کی ،بھارت کے طیارے نہیں گرے ،صدر ٹرمپ 28 مرتبہ پاکستان اور بھارت میں جنگ بندی کروانے کا کریڈٹ بھی لے چکے ۔کسی ایک بھی ملک نے پاکستان کی مذمت نہیں کی۔‘
اپوزیشن کی تنقید کے بعد وزیراعظم مودی نے اپنی تقریر میں آپریشن سندور کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ22 اپریل کو پہلگام حملے کا بھرپور جواب دیا گیا۔پاکستان کچھ نہ کر سکا۔ دنیا کے کسی رہنما نے آپریشن سندور روکنے کا نہیں کہا۔
وسطی کشمیر سے منتخب نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھنے والےپارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے شکوہ کیاکہ کسی بھی پُرتشدد واقعے کے رونما ہونے کے بعد کشمیر کے عوام کو اجتماعی سزا دی جاتی ہے۔ آغاروح اللہ نے لوک سبھا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعدکشمیر میں 13گھروں کومشکوک افراد کی زیر ملکیت ہونے کے شبہ میں بغیر کسی قانونی کارروائی کے دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ اور پہلگام واقعات کے بعد 2ہزارسے زائد کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا،انہیں صرف کشمیری ہونے کی سزا دی گئی۔
شمالی کشمیر سے منتخب ممبر پارلیمنٹ انجینئر رشید نے بھی اپنی تقریر میں کشمیر مسئلے کے حل کی وکالت کرتے ہوئے حکومت ہند کو اس ضمن میں ٹھوس پیش رفت کرنےکی درخواست کی۔
پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر بحث کے دوران جہاں حکمران جماعت اور اپوزیشن ممبران نے ایک دوسرے کے خلاف جم کر شور شرابہ کیا، وہی اس ہنگام میں یہ سارے ممبران عام کشمیریوں کو بھول گئے! بحث کے دوران کسی بھی رُکن پارلیمان نے کشمیر یا کشمیریوں بارے میںکوئی بات نہیں کی، جو کشمیریوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔










