24 جولائی جمعرات کو جموں کے ستواری علاقے میں مبینہ پولیس مقابلے میں ایک مقامی نوجوان کی ہلاکت کے بعد ہوئےزبردست عوامی احتجاج اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی انکوائری مانگ کے پیش نظر حکام میں پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کئے ہیں جبکہ پولیس نے بھی واقعہ کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے اسمیں ملوث 2اہلکاروں کو معطل کرکے ڈی ایس پی کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق جموں کے ستواری تھانے کے تحت آنے والے شورے چک علاقے میں ایک پولیس کارروائی کے دوران 21 سالہ نوجوان کی موت ہوگئی۔ پولیس کے مطابق وہ منشیات فروشوں کا پیچھا کر رہے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ تاہم مقتول کے اہل خانہ نے اس واقعے کو فرضی انکاؤنٹر قرار دیتے ہوئے زوردار احتجاج کیا اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ پرویز احمدولد مرحوم رحمت علی ساکن جاوید نگر، نکی توی، کے قبضے سے 12 سے 15 گرام ہیروئن جیسا مادہ برآمد کیا گیا ہے، جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ پولیس کے مطابق اسپیشل اِن پٹ پر ڈسٹرکٹ اسپیشل برانچ اور پولیس پوسٹ پھلاں منڈل کی ٹیم منشیات فروشوں کا تعاقب کر رہی تھی، اسی دوران مبینہ طور پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میںپرویزاحمد زخمی ہوگیا۔ اُسے فوری طور پر جی ایم سی جموں منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
واقعے کی خبر پھیلتے ہی مقتول کے اہل خانہ جی ایم سی جموں پہنچے مگر اُنہیں اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اسپتال میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات تھی۔ نوجوان کی موت کی اطلاع ملنے پر مشتعل اہل خانہ نے اسپتال کے باہر احتجاج کیا اور پولیس پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایک بےگناہ نوجوان کو منشیات فروش قرار دے کر مار دیا۔
مقتول کے بھائی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’میرا بھائی نہ کبھی مجرم تھا اور نہ کسی کیس میں نامزد تھا۔ اگر پولیس کو شبہ بھی تھا تو وہ اُسے گرفتار کرتی، قتل کیوں کیا؟‘‘ انہوں نے پولیس پر قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے اس واقعہ کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ انہیںنہ تو اسپتال میں داخل ہونے دیا گیا اور نہ ہی آخری دیدار کی اجازت دی گئی۔اہل خانہ اور دیگر رشتہ داروں کی جانب سے اسپتال میں داخل ہونے کی بارہا کوششوں کو پولیس اور نیم فوجی دستوں نے ناکام بنایا، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
ادھرپرویز احمدکی ہلاکت کے بعد علاقے میں تناؤ کی فضا قائم رہی۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائی بلاجواز اور غیر ضروری تھی۔ وہ مطالبہ کر رہے تھے کہ اس واقعے کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے تاکہ سچ سامنے آ سکے اور قصورواروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔
سول سوسائٹی ارکان، انسانی حقوق کے کارکنان اور مقامی سیاسی جماعتوں نے واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایک آزاد کمیشن کے ذریعے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے تاکہ سچ سامنے آ سکے اور اگر پولیس کی جانب سے کوئی زیادتی ہوئی ہے تو ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے۔
سماجی و سیاسی حلقوں کی مذمت
معروف سماجی کارکن چودھری طالب حسین، جو گوجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں،نے اس واقعے کو نہایت افسوسناک اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر پولیس کا دعویٰ درست نہیں ہے تو یہ ایک’’منصوبہ بند قتل‘‘ ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
طالب حسین نے کہا،’’ جموں پولیس کو اسرائیلی طرز پر شک کی بنیاد پر مارنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، خصوصاً جب نشانہ پسماندہ یا مسلمان برادری ہو۔ ہم ایک جمہوری ملک میں ایسے اقدامات برداشت نہیں کریں گے۔“ انہوں نے اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا جس کی نگرانی ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج کے ذریعے ہو، تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ گوجر برادری کو بار بار منشیات اور مویشی اسمگلنگ جیسے الزامات میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور پرویز کو بھی اس کی شناخت کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا بیان
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں کے نکی توی کے رہائشی پرویز احمدکے قتل کی شفاف اور وقتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔اس واقعے کو’’انتہائی بدقسمتی اور انتہائی افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے عمر نے کہا کہ پولیس ایجنسیوں کی طرف سے طاقت کے استعمال میں ’’توازن ہونا چاہیے نہ کہ اندھا دھند طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ جموں و کشمیر ماضی میں اس طرح کے واقعات کی بھاری قیمت چکا ہے اور اس بار احتساب پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک بیان میں کہا،’’اس واقعے کو چھپا نہیں چاہیے بلکہ اس کی شفاف اور وقت کے پابند طریقے سے تفتیش ہونی چاہیے،سچ سامنے آنا چاہیے اور ذمہ داروں کو حساب دینا چاہیے۔ ‘‘
وزیر اعلیٰ نے مقتول محمد پرویز کے گھر جاکر اہلخانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
ادھر ممبر پارلیمنٹ میاں الطاف احمد نے بھی پولیس فائرنگ میں نوجوان کی ہلاکت پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ میاں الطاف نے ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ نوجوان کا دن دیہاڑے قتل ہے، انتظامیہ کو اس کی تحقیقات کرنی چاہیے اور قتل میں ملوث افراد سے سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔‘‘ میاں الطاف نے ایسے واقعات کو افسوس ناک اور ناقابل قبول قرار دیا۔
مجسٹریل انکوائری کا حکم
25 جولائی جمعہ کی دیر شام ضلع مجسٹریٹ جموں نےجمعرات 24جولائی 2025کو سرے چک، بھلائیں منڈال جموںمیں پیش آنے والے واقعے کی مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا ہے۔خیال رہے کہ واقعے کے بعد، بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 109(1)، 3(5) اور آرمز ایکٹ کی دفعہ 3/27 کے تحت پولس سٹیشن ستواری میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔اس واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے، جیسا کہ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، جموں نے اطلاع دی ہے، ضلع مجسٹریٹ نے ایک مجسٹریٹ انکوائری شروع کی ہے تاکہ اس واقعہ کی وجہ سے حقائق اور حالات کی منصفانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انکوائری سب ڈویژنل مجسٹریٹ، جموں جنوبی کریں گے۔انکوائری آفیسر کو حکم کی تاریخ سے دو ہفتوں کے اندر اندر تحقیقات مکمل کرنے اور مزید ضروری کارروائی کےلئے تفصیلی رپورٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
معاملے کے بارے میںپولیس کارروائی
جموں و کشمیر پولیس نے جمعرات24 جولائی کو سور چک علاقے میں ایک نوجوان کے قتل کے معاملے میں ضلع سپیشل برانچ کے دو پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔متوفی نوجوان کے اہل خانہ کے الزامات کی جانچ کے لیے ڈی وائی ایس پی رینک کے افسر کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) بھی تشکیل دی گئی ہے۔اس سلسلے میں ایس ایس پی جموں جھوگندر سنگھ کی جانب سے جاری کئے گئے حکم نامہ میں کہاگیا ہے کہ ستواری پولیس سٹیشن میں درج ایف آئی آر 153/2025،جو 24جولائی کو پیش آئے واقعہ کے سلسلے میں درج کیاگیا،ڈسٹرکٹ سپیشل برانچ جموں سے وابستہ دو اہلکار ہیڈکانسٹیبل بلجندر سنگھ اور سلیکشن گریڈ کانسٹیبل پون سنگھ کو فوری طور معطل کردیا جاتاہے۔دونوں اہلکار ڈسٹرکٹ پولیس لائنز جموں کے ساتھ منسلک رہیں گے اور وہ اپنی تحویل میں موجود وردی اور دیگر سازوسامان ڈی پی ایل سٹور میں جمع کرائیں گے۔حکم نامہ میں مزید کہاگیا ہے کہ اس واقعہ کی محکمانہ انکوائری کیلئے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرس جموں تحقیقاتی آفیسر نامزد کئے گئے ہیں جو دونو ں اہلکاروںکے خلاف انکوائری کرکے اپنی رپورٹ ڈی پی او جموں کو پیش کریں گے۔
یاد رہے قبل ازیں پولیس نے ایک بیان میں اطلاع دی تھی کہ جموں کے مضافاتی علاقے سورے چک، پھلیاں منڈل میں جمعرات کے روز منشیات فروشوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک نوجوان ہلاک ہو گیا۔مہلوک نوجوان کی شناخت پرویز احمد عرف بچو ولد رحمت علی سکنہ جاوید نگر، نکی توی کے طور پر ہوئی ہے، جس کی عمر تقریباً 30 سال بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے نعش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج و اسپتال (جی ایم سی) جموں منتقل کر دیا ہے۔
اس واقعے کے حوالے سے پولیس تھانہ ستواری میں ایک ایف آئی آر 153/2025 دفعات 109(1)(5)(3) بی این ایس اور 27/3لگائی گئی ہے۔ ایف آئی آر جس کی نقل سوشل میڈیاپر متعدد کارکنان نے اپلوڈ بھی کی ہےمیں درج ہے کہ’’مورخہ 24جولائی 2025 چوکی پولیس فلاں منڈال جموں سے بغرض چاکیدگی تھانہ پولیس ستواری میں لاکر پیش کی گی جس میں درج ہے کہ ’’پولیس ٹیم چوکی بیلی چرانہ سے روانہ بطرف جاوید نگر وغیرہ ہوئی تو بمقام سوریہ چوک جموں کچھ موٹر سائیکل سوار اشخاص جن کو بغرض چیکنگ روکنے کی کوشش کی گئی تو پولیس اہلکاروں پر ہلاکت جان کی غرض سے اپنے پاس رکھے غیر قانونی ہتھیار سے گولیباری کی ہے۔ بہ وجہ حفاظت خود اختیاری جوانی فائیرنگ میں ایک شخصاسمی نامعلوم مضروب ہوا جبکہ دوسرا شخص اسمی نامعلوم موقعہ سے فرار ہوگیا ہے اور موٹر سائیکل مذکوریان موقع پر ہی موجود پڑا ہے۔ سردستاس پر جرائم زیر دفعات 109(1)(5)(3)بی این ایس 27/3آرمز ایکٹ مقدمہ کا ارتکاب ہوان پایا جاتا ہے جس نسبت ایف آئی آر 153/2025درج کرکے تفتیش مقدمہ پی ایس آئی بلبیر سنگھ افسر چوکی پولیس فلاں منڈال کی جاتی ہے۔‘‘
21 سالہ پرویز احمد کے اہلخانہ نے پولیس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’پولیس نے اس پر گولی چلائی اور اسے ماردیا۔‘‘
مقتول نوجوان کے اہلخانہ کا بیان
پرویز احمد کے افراد خانہ کے مطابق 24 جولائی جمعرات 3سے 4 بجے کے درمیان وہ اپنے برادر نسبتی کے ہمراہ والدہ کے لئے دوائی لینے گئے تھے ۔جس کے کچھ وقت بعد پولیس نے تصادم میں ان کے مارے جانے کی اطلاع دی۔
بتاتے چلیں کہ21 سالہ پرویز احمدکی تین ماہ قبل شادی ہوئی تھی۔جمعہ25 جولائی کے روز لوگوں کی طرف سے پروز ا حمد کے آبائی علاقہ فلاں منڈال میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پرویز احمدکی تدفین تب تک نہیں ہوگی جب تک قصوار پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ گجر بکروال طبقہ کو بہانہ بنا کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بعد ازاں اعلیٰ پولیس اہلکارایس پی اجے شرما اور ڈی ایس پی مدثر نے پرویز احمدکے اہل خانہ کے پاس پہنچے اور انہیں پرویز کی آخری رسومات ادا کرنے کو کہا اور یقین دلایا کہ آپ کو انصاف ملے گا۔اگر چہ جمعہ شام کو مقتول محمدپرویز کی تدفین ہوئی لیکن بیشتر لوگوں نے احتجاجاً جنازہ میں شرکت نہیں کی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ قتل ناحق میں قصواروں کو سزا ملنی چاہیے۔










