پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی )نے پیر 28 جولائی کے روز سرینگر کے شیر کشمیر پارک میںایک خصوصی تقریب کے ساتھ اپنا 26 واں یوم تاسیس منایا۔ اس موقع پر پارٹی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر میں مذاکرات اور مفاہمت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام عزت کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے اپنے خطاب میں اپنے والد اور پی ڈی پی کے بانی مفتی محمد سعید کے ویژن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا یہ دن امن کی بات عزت کے ساتھ کے اصول کے لیے وقف ہے۔ پی ڈی پی اس وقت قائم ہوئی جب سیاسی غیر یقینی کی کیفیت تھی۔ اس جماعت کا مقصد کبھی خلفشار پیدا کرنا نہیں تھا، بلکہ عوام کی مشکلات کو کم کرنا تھا۔
انہوں نے کہا،’’مفتی سعیدکا ماننا تھا کہ بھارت کو طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ رحم دل بھی ہونا چاہیے۔ وہ بھارت کو ایک ہاتھی کہتے تھے شاندار اور طاقتور لیکن افسوس ہے کہ یہ ہاتھی اب خود اپنے پیروں میں زنجیر ڈال چکا ہے، اور وہ زنجیر جموں و کشمیر ہے۔‘‘
محبوبہ مفتی نے کشمیریوں کے لیے جمہوری اسپیس کے محدود ہونے پر بھی تنقید کی، خصوصاً جب وہ پاکستان کے ساتھ امن کی بات کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ جب بھی کوئی کشمیری پاکستان کے ساتھ امن کی بات کرتا ہے، اسے کہا جاتا ہے کہ خارجہ پالیسی میں مداخلت نہ کرو۔ لیکن جب سب سے زیادہ قربانیاں ہم دیتے ہیں تو ہمارا حق ہے کہ ہم بھی بولیں ہمارے بچے مرے، ہمارے والد مرے نتیجہ کیا نکلا؟ صفر!‘‘
پی ڈی پی صدرنے بھارت کی ترقیاتی ترجیحات پر بھی سوال اٹھایا اور چین سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ہماری آبادی نوجوان ہے، پھر بھی ہم چین سے ہر میدان میں پیچھے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے وزیر خارجہ بھی کہتے ہیں کہ ہم چین کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پھر میزائلوں پر خرچ کیوں؟ تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کیوں نہیں ہو رہی؟‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ’’ پاکستان چاہے معاشی بحران سے گزر رہا ہو، لیکن وہ اب بھی بھارت کی سیکورٹی پالیسی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر آپ کہتے ہیں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہےتو کشمیریوں کو بولنے دو، آپ ہماری سرزمین پر جنگیں لڑتے ہو اور ہماری آوازوں کو دباتے ہو۔‘‘
سابق وزراء اعظم کا حوالہ دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر نے اندرا گاندھی سے لے کر واجپائی اور منموہن سنگھ تک ہر لیڈر کو آزمایا ہے۔ سب نے کوشش کی۔ اب وزیر اعظم مودی کی باری ہے۔ ان کے پاس مینڈیٹ بھی ہے، صلاحیت بھی مودی چاہیں تو مسئلہ کشمیر کا مستقل حل نکال سکتے ہیں۔
انہوں نے جموں و کشمیر میں فورسز کی بڑھتی تعیناتی اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین کے استعمال پر تشویش ظاہر کی اور کہا’’ اور کتنی گرفتاریاں اور کتنے قتل ؟ یہاں تک کہ قبائلی بھی نہیں بچے۔ یہ امن کا راستہ نہیں ہے۔‘‘
اپنے خطاب کے اختتام پر محبوبہ مفتی نے ایشیا کپ کر کٹ تورنامنٹ میں بھارت کی شرکت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ کشمیری عوام سے بھی بات کرے ان سے رابطہ کریں، انہیں گلے لگائیں۔’’ امن طاقت سےنہیں، دل جیتنے سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘
واضح رہے جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں اہم مقام رکھنے والی جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) کا یومِ تاسیس ہر سال28 جولائی کو منایا جاتا ہے۔ 1999 میں اسی دن پارٹی کے بانی، سابق مرکزی وزیر داخلہ ہندمفتی محمد سید نے اپنے دیگر ساتھیوں اور موجودہ پارٹی سربراہ محبوبہ مفتی کے ساتھ شروعات کرتے ہوئے پی ڈی پی کی بنیاد رکھی تھی۔ اور ہر سال اس دن پارٹی اپنی ترقی، جذبہ اور عوامی حمایت کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے ۔ اگرچہ ماضی میں پی ڈی پی کشمیر مسئلہ کے حل کے لیے’’ سیلف رول ‘‘ اور حکومت ہند کی کشمیر پالیسی پر تنقیدکو لیکر خاصا سرگرم رہتی تھی لیکن 5 اگست 2019 کے بعد بدلتے منظرنامے میںیہ پارٹی بھی دیگر مقامی پارٹیوں کی طرح ’معذرت خواہانہ ‘پالیسی اپنا کر عام کشمیریوں میں اپنی ساکھ کھوتی نظر آرہی ہے۔دیگر پارٹیوں کی طرح پی ڈی پی بھی اب دفعہ 370اور 35اے کی بحالی، ریاستی درجہ کی بحالی جسے مدعوں کو لیکر ہی بیان بازی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
2014 میں بی جے پی کے ساتھ حکومتی اتحاد نے پی ڈی پی کو کشمیری عوام کی نظر میں شجر ممنوعہ بنادیا، خاصکر 2016 کے عوامی احتجاج کے دوران پارٹی صدرمحبوبہ مفتی کے ’’دودھ ٹافی‘‘والے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کردیا، جس کے نتیجے میں حالیہ اسمبلی الیکشن میں پی ڈی پی محض تین سیٹوں تک سمٹ کر رہ گئی۔
پی ڈی پی قیادت کے لئے از سر نوکشمیری عوام کا اعتماد جیتنے کے لیے راستہ کٹھن ہے، لیکن پی ڈی پی کی بنیاد تو اسی کٹھن راستے کو طے کرنے کے لیے ہی رکھی گئی تھی۔۔۔۔یہ تو آنے والا وقت ہی بتادے گا کہ پارٹی قیادت عوامی اعتماد جیتنےمیں کس حد تک کامیاب ہوجائے گی لیکن ایک بات واضح ہے کہ عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس سرکار کی حالیہ کارکردگی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید پی ڈی پی کے لیے راستہ آسان ہوگیا ہے۔










