امت نیوز ڈیسک //
اننت ناگ: اننت ناگ ریلوے اسٹیشن وادی کشمیر کا پہلا ریلوے اسٹیشن بن گیا ہے،جسے سامان کی نقل و حمل کے لیے کھولا گیا ہے۔ ناردرن ریلوے نے اپنے جموں ڈویژن کے تحت باضابطہ طور پر اسٹیشن پر مال برداری کا آغاز کیا، جس سے سامان کی اندرون اور باہر دونوں طرح کی نقل و حرکت کی اجازت دی گئی۔
حکام نے جمعرات کو بتایا کہ اسٹیشن روزانہ صبح 6:00 بجے سے رات 10:00 بجے تک کام کرے گا۔ یہ بارہمولہ ،سری نگر ، بانہال ریلوے کوریڈور کا حصہ ہے، جو ادھم پور، سری نگر ، بارہمولہ ریل لنک پروجیکٹ کے تحت آتا ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام پورے خطے میں کاروباری اداروں کے لیے زیادہ موثر اور قابل اعتماد ٹرانسپورٹ آپشن پیش کرے گا۔ اس سے نقل و حمل کے اخراجات میں کمی، لاجسٹکس کو بہتر بنانے اور سامان کی تیز تر ترسیل کو یقینی بنانے کی توقع ہے، خاص طور پر سردیوں کے مہینوں میں جب برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے اکثر سڑکوں کا رابطہ منقطع ہوتا ہے۔
اس اقدام سے یہاں کے اہم شعبوں خاص کر باغبانی،زراعت کو فائدہ پہنچے گا جو وادی کے بنیادی تجارتی پیداوار میں شامل ہیں اور اس قدم سے نہ صرف یہاں کی تازہ پیداوار کی رسائی آسانی ہوگی بلکہ نئی مال برداری اور کشمیر کے درمیان اقتصادی رابطہ کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
تجارتی انجمنوں اور میوہ کاشتکاروں نے سرکار کے اس قدم کی سراہنا کی ، انہوں نے کہا کہ اس قدم سے پوری وادی خاص کر جنوبی کشمیر میں آر پار اشیا اور سازو سامان کی نقل و حرکت کو ہموار کرنے میں مدد ملے گی ،یہ براہ راست ریل پر مبنی کارگو کو ملک بھر میں مقامی کاروباری منڈیوں کے ساتھ مربوط کرنے اور مقامی کاروباری منڈیوں تک رسائی فراہم کرے گا۔
ہائی ٹیک فروٹ منڈی پازالپورہ میں کام کرنے والے میوہ تاجر اظہر ٹاک نے کہا کہ یہ ایک تاریخی اور خوش آئند قدم ہے،انہوں نے کہا کہ خراب موسمی حالات کے دوران پسیاں گرنے کی وجہ سے جموں سرینگر قومی شاہراہ اکثر و بیشتر بند ہوتا ہے، جس کی وجہ سے مال برداری گاڑیاں کئی روز تک درماندہ ہو جاتی ہیں اُن گاڑیوں میں موجود تازہ میوہ خراب ہو جاتا ہے جس سے تاجروں اور کسانوں کو کافی نقصان ہوتا ہے ،اسلئے ٹرین سروس سے ان سب دقتوں سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے سرکار سے مطالبہ کیاکہ جبلی پورہ فروٹ منڈی تک ایک الگ ریل ٹرمنل قائم کیا جائے تاکہ مال کو کو براہ راست ملک سے باہر بھیجنے میں آسانی ہو سکے۔
دلی سے تعلق رکھنے والے تاجر رام کمار شرما کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے کشمیر کی منڈیوں سے فروٹ خرید رہے ہیں،تاہم دشوار گزار شاہراہ اور طویل سفر ہونے سے بعض اوقات مال کی حالت بگڑ جاتی ہے، جس کے سبب انہیں نقصان ہو رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ بذریعہ ریل مال کی رسائی آسان ہو جائے گی جس سے نہ صرف تاجروں بلکہ کاشتکاروں کو بھی فائدہ ملے گا
جبلی پورہ فروٹ منڈی میں کام کرنے والے ایک اور تاجر نے کہا کہ یہ ایک تاریخی قدم ہے ،تاہم انہوں نے کہا کہ جبلی پورہ فروٹ منڈی ایک ٹرمنل مارکیٹ ہے اسلئے سرکار کو چاہئے تھا کہ وہ اننت ناگ کے بجائے بجبہاڑہ ریلوے اسٹیشن کو مال بردار ریل گاڑی کی سہولت رکھے ،انہوں نے کہا کہ ہائی ڈینسیٹی سیب کافی نازک ہوتا ہے اسلئے ریل کے ذریعہ ملک کی مختلف منڈیوں تک تازہ مال کی رسائی ممکن ہوگی۔
میوہ کاشتکار محمد اشرف بٹ کا کہنا ہے کہ ان کے سال بھر کی محنت کا دارو مدار معقول ٹرانسپورٹ پر منحصر ہے ،صحیح رسائی نہ ہونے کی وجہ سے منڈیوں میں ان کے مال کو معقول قیمتیں نہیں مل رہی ہیں ،لہذا سرکار نے صحیح وقت پر ایک اچھا اور کارگر قدم اٹھایا ہے، جو قابل ستائش ہے ،انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ قدم یہاں کے لوگوں کے لئے سود مند ثابت ہوگا۔










