امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 25 اگست: سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کو سرینگر میں احتجاجی مارچ کی قیادت کی۔ اس مارچ میں پی ڈی پی کے کارکنوں اور حامیوں نے شرکت کی اور اس کا مقصد ان قیدیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی طرف توجہ مبذول کرانا تھا جو جموں و کشمیر سے باہر کی جیلوں میں بند ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ جیل و عدالتی اصلاحات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرنا تھا۔
پی ڈی پی رہنماؤں کے مطابق یہ احتجاج صرف قیدیوں کی منتقلی کا مطالبہ نہیں بلکہ ان کی عزت، انصاف اور قانونی تحفظات کی بحالی کے لیے تھا۔ پارٹی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے قیدیوں کو مقامی جیلوں میں رکھا جانا چاہیے تاکہ انہیں قانونی دفاع تک مناسب رسائی حاصل ہو اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات میں آسانی ہو سکے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قیدیوں کا گھر سے دور ہونا ان کے منصفانہ ٹرائل کے حق اور جذباتی سکون پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔
پی ڈی پی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تمام مقدمات کو بروقت اور مؤثر انداز میں نمٹایا جائے کیونکہ ’’انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے‘‘ اور طویل مدت تک مقدمے سے پہلے کی قید، آزادی کے اصول کو نقصان پہنچاتی ہے۔ پارٹی نے ہر سماعت پر ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کو لازمی قرار دینے پر زور دیا تاکہ شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔
پی ڈی پی کی طرف سے اٹھائے گئے اہم نکات میں سے ایک یہ تھا کہ ’’جیل نہیں بلکہ ضمانت‘‘ کے اصول پر عمل ہونا چاہیے، جو کہ آئین میں درج ہے مگر اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ ضمانت سے انکار، خاص طور پر ان معاملات میں جہاں ٹرائل تاخیر کا شکار ہو یا ثبوت ناکافی ہوں، غیر ضروری اذیت کا باعث بنتا ہے اور بنیادی قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
پی ڈی پی رہنماؤں نے عمر قید کے معاملات میں معافی کی پالیسی پر شفافیت کی کمی پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ عمل غیر جانبدار اور سیاسی مداخلت سے پاک ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیرول اور فرلو کو رعایت نہیں بلکہ قیدیوں کی بحالی اور سماجی انضمام کے لیے قانونی حق سمجھا جانا چاہیے۔
پارٹی نے طبی بنیادوں پر ضمانت میں تاخیر کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے اس کے فوری اجراء کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جیل مینوئل پر مکمل اور یکساں عمل درآمد پر زور دیا تاکہ قیدیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق انسانی سلوک کیا جائے۔
(کے این ایس)









