امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 25 اگست : پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے جموں و کشمیر کے قیدیوں کو مقامی جیلوں میں واپس لانے کے مطالبے پر احتجاجی مارچ کی قیادت کرنے کے کچھ دیر بعد، وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ایسے فیصلے مرکز کے وزارتِ داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، نہ کہ یونین ٹیریٹری کی انتظامیہ کے۔
محبوبہ مفتی کے احتجاج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا:”انہوں نے قیدیوں کے حقوق کا مسئلہ اٹھایا ہے، مگر یہ فیصلے دہلی میں لیے جاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاسی رہنما وزیر داخلہ سے اجتماعی ملاقات کرکے اپنے خدشات براہِ راست پیش کریں تو زیادہ مؤثر ہوگا۔
عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کے بعد اپنی پہلی کابینہ میٹنگ میں ہی ریاستی درجہ بحالی کے حق میں قرارداد پاس کی گئی تھی۔
"جب میں پہلی بار وزیر اعظم سے ملا تو میں نے کابینہ کی قرارداد ان کے حوالے کی تھی،” انہوں نے کہا۔تاہم، ان کے بقول اس کے بعد سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
سپریم کورٹ کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ عدالت نے اس معاملے کی سماعت کا وقت مقرر نہیں کیا ہے، جس پر انہوں نے مایوسی ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے اسمبلی انتخابات کیلئے وقت مقرر نہ کیا ہوتا تو وہ بھی منعقد نہ ہوتے۔ انہیں امید ہے کہ جب یہ کیس دوبارہ 10 اکتوبر کے بعد سنا جائے گا تو عدالت ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے ایک واضح ڈیڈ لائن طے کرے گی۔
پارٹی کی دستخطی مہم کے بارے میں پوچھے جانے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ مہم جاری ہے اور مکمل ہونے پر اسے مرکزی حکومت اور سپریم کورٹ دونوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ (کے این ایس)









