امت نیوز //
سرینگر، 25 اگست: جموں و کشمیر حکومت نے پیر کو ایک اہم حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سول سیکریٹریٹ جموں و سرینگر سمیت تمام ضلعی ڈپٹی کمشنر دفاتر اور سرکاری محکموں میں سرکاری ڈیوائسز پر پین ڈرائیوز کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد حساس سرکاری معلومات کا تحفظ، سائبر سیکیورٹی کو یقینی بنانا، اور ڈیٹا لیک، میلویئر انفیکشنز اور غیر مجاز رسائی کے خطرات کو کم کرنا ہے۔
جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے جاری کردہ حکم کے مطابق:
“یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر کی سائبر سیکیورٹی پوزیشن کو بہتر بنانے اور حساس سرکاری معلومات کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سول سیکریٹریٹ جموں و سرینگر اور تمام ضلعی ڈپٹی کمشنر دفاتر میں سرکاری ڈیوائسز پر پین ڈرائیوز کے استعمال پر پابندی ہوگی۔”
البتہ، حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جہاں آپریشنل ضرورت پیش آئے وہاں مخصوص صورتوں میں ہر محکمہ کے لیے 2–3 پین ڈرائیوز تک ’’وہائٹ لسٹنگ‘‘ کی اجازت دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ اس کی باضابطہ درخواست متعلقہ محکمے کے سربراہ کے ذریعے اسٹیٹ انفارمیٹکس آفیسر (SIO)، نیشنل انفارمیٹکس سینٹر کو بھیجی جائے۔ اجازت ملنے کے بعد پین ڈرائیوز کو متعلقہ NIC سیل میں جمع کرانا ہوگا تاکہ ان کی ری کنفیگریشن، آڈٹ، کنٹرول اور رجسٹریشن کی جا سکے۔
محکمہ جات کے لیے محفوظ متبادل کے طور پر حکومت نے ’’GovDrive‘‘ کو استعمال کرنے کی سختی سے سفارش کی ہے۔ یہ ایک کلاؤڈ بیسڈ، ملٹی-ٹیننٹ پلیٹ فارم ہے جو ہر سرکاری افسر کو 50 جی بی کا محفوظ اسٹوریج فراہم کرتا ہے، جسے مختلف ڈیوائسز پر ہم آہنگ (synchronization) کیا جا سکتا ہے۔ اس کے استعمال کی تفصیلات اور رہنمائی دستاویز (Annexure I & II) کے ساتھ فراہم کی گئی ہیں۔
حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ واٹس ایپ اور WeTransfer جیسے غیر محفوظ پلیٹ فارمز پر سرکاری یا حساس معلومات کی ترسیل، تقسیم یا شیئرنگ مکمل طور پر ممنوع ہے۔ اس میں سرکاری دستاویزات، ای میلز، حساس تکنیکی معلومات جیسے ICT ڈایاگرامز، سسٹم کنفیگریشن، کمزوریوں کی رپورٹس اور سیکیورٹی آڈٹ رپورٹس شامل ہیں۔ اس کے بجائے ’’GovDrive‘‘، ’’ای-آفس‘‘ اور ای میل کے ذریعے تبادلہ کرنے کی سخت ہدایت دی گئی ہے۔
حکم نامے میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کو سنگین تصور کیا جائے گا اور اس پر ویب کنڈکٹ، آئی ٹی استعمال اور انتظامی رویے سے متعلقہ قوانین کے تحت تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
آخر میں حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ ہدایات سرکاری ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ اور حساس ڈیٹا کے کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو روکنے کے لیے دی گئی ہیں۔ تمام محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان ہدایات پر فوری اور ترجیحی بنیادوں پر عمل درآمد کریں تاکہ حکومت کے ڈیجیٹل نظام کو محفوظ بنایا جا سکے۔









