امت نیوز ڈیسک //
جموں، 26 اگست: جموں خطے میں منگل کو مسلسل بارشوں کے باعث کئی دریاؤں اور نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس کے بعد متعدد اضلاع میں سیلابی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق سانبہ ضلع میں بسنتر دریا اپنی انخلا (Evacuation) کی سطح کو پار کرتے ہوئے 9.0 فٹ پر بہہ رہا ہے، جو اب تک اس ندی کی سب سے بلند ترین ریکارڈ شدہ سطح ہے۔ اسی ضلع میں دیوک دریا بھی 4.3 فٹ کے خطرے کے نشان سے اوپر پہنچ گیا ہے اور اب صرف چھ انچ نیچے ہے جہاں سے انخلا لازمی ہو جاتا ہے۔ بین نالہ بھی سانبہ میں 3.3 فٹ کے الرٹ لیول کے قریب ہے۔
اُدھمپور ضلع میں توی دریا اپنی انخلا سطح سے سات فٹ اوپر بہہ رہا ہے، جو سب سے زیادہ خطرناک زمرہ ہے اور نشیبی علاقوں کے لیے شدید خدشات پیدا کر رہا ہے۔
کٹھوعہ ضلع میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ترنہ دریا 4.6 فٹ کے خطرے کے نشان کو چھو چکا ہے۔ اُجھ نالہ پنج تیرتھی اور کٹھوعہ میں انخلا سطح کو پار کر گیا ہے، جبکہ راوی دریا بھی اپنے خطرے کے نشان کے قریب ہے۔
جموں ضلع میں توی دریا 14 فٹ کے الرٹ لیول تک پہنچ چکا ہے۔ چناب دریا اکھنور میں 30 فٹ 8 انچ پر بہہ رہا ہے، جو سیلابی الرٹ سے محض 1 فٹ 4 انچ نیچے ہے۔ تاہم بالولہ نالہ محفوظ زون میں ہے اور اپنے الرٹ لیول سے تقریباً پانچ فٹ نیچے بہہ رہا ہے۔
حکام نے بتایا کہ پونچھ ضلع میں صورتحال قابو میں ہے، جہاں سوران دریا، پونچھ دریا اور مینڈھر نالہ اپنی الرٹ سطح سے کافی نیچے ہیں۔
افسران نے نشیبی اور حساس علاقوں کے لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے کیونکہ اگر بارشیں جاری رہیں تو بڑے دریاؤں اور معاون نالوں میں پانی کی سطح مزید بڑھ سکتی ہے۔ (کے این ٹی)










