امت نیوز ڈیسک //
ویشنو دیوی یاترا کے راستے پر واقع ریاسی ضلع (جموں و کشمیر) میں منگل کے روز پیش آنے والی خوفناک لینڈ سلائیڈنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 32 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق کم از کم 20 افراد اس واقعے میں زخمی ہوئے ہیں، جبکہ کئی یاتری اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
یہ افسوسناک حادثہ منگل کی سہ پہر تقریباً 3 بجے ادھکواری کے مقام پر پیش آیا، جو یاترا راستے کے درمیان واقع ہے۔ ریسکیو ٹیمیں مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
مسلسل بارش اور تباہی
جموں و کشمیر میں بدھ کے روز چوتھے دن بھی شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث اچانک سیلاب اور زمین کھسکنے کے واقعات سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ہزاروں افراد کو نشیبی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، کیونکہ توی، چناب، جہلم سمیت دیگر دریا خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہے ہیں۔
کشتواڑ کے دور دراز علاقے مارگی میں اچانک سیلاب کے باعث 10 مکانات اور ایک پل بہہ گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
کٹھوعہ کے لکنپور گاؤں میں 12 سے زائد نیم فوجی اہلکار سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
جموں کے مختلف علاقوں میں توی، چناب، اوجھ، راوی اور بسنتار ندیوں کی سطح خطرے کے نشان سے کئی فٹ اوپر جا چکی ہے۔
کشمیر میں بڑھتا خطرہ
وادی کشمیر میں جہلم دریا نے سنگم (اننت ناگ) میں 21 فٹ کے سیلابی الرٹ نشان کو عبور کر لیا ہے، جبکہ رام منشی باغ (سری نگر) میں بھی پانی کی سطح خطرے کے قریب پہنچ چکی ہے۔
حکام کے مطابق پلوں، مکانات، اور تجارتی عمارتوں سمیت عوامی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔










