اعجاز بابا
جب اوائلِ خزاں کی سنہری دھوپ ہارمکھ گاندربل کی شاندار پہاڑیوں پر پھیلی ہوئی تھی، تو چنار کے پتے جدائی، تڑپ اور اُن اَن کہے زخموں کی داستانیں سرگوشیوں میں سناتے جنہیں دہائیوں سے خاموشی کے ساتھ سینوں میں چھپایا گیا تھا۔ کشمیر کی خزاں ہمیشہ یادوں کا موسم رہی ہے ،درخت پتوں کو رخصت کرتے ہیں، ندیاں مدھم پڑ جاتی ہیں، پہاڑوں میں ایک عجیب سی اُداسی گونجتی ہے۔ مگر انہی زردیوں کے بیچ ایک کہانی نے جنم لیا،ایک ایسی کہانی جس نے غم کو اُمید سے، بچھڑنے کو ملنے سے، اور خاموشی کو نغمے سے جوڑ دیا۔گاندربل کی اُس خاموش صبح میں ایک بہن کے دل پر جدائی کا بوجھ برسوں کا دکھ لئے بیٹھی تھی۔ تیس سے زائد برس قبل ایک بچی کے طور پر گود لی گئی، وہ محبت، سادگی، اور سنہری دل رکھنے والے لوگوں کی پرورش میں بڑی ہوئی۔ مگر گھر کی گرمجوشی اور شوہر کی بے پناہ محبت کے باوجود اس کے دل کی تہہ میں ایک زخم سلگتا رہا،اپنی حیاتی جڑوں سے محرومی کا زخم۔بتیس برس تک اس نے اس تکلیف کو خاموش داغ کی طرح اٹھایا۔ اس کے والد اسے بنا کسی نشان، بنا پتے، بنا رابطے کے چھوڑ گئے تھے۔ زندگی نے اسے سب کچھ عطا کیا تھا مگر وہ ایک چیز نہ دے سکی جواصل سے وابستگی کی آغوش، خون کے رشتے کی پہچان، اپنے ہی وجود کی آواز۔’’میرے پاس سب کچھ ہے‘‘ وہ کہتی رہتی ،’’شوہر نے ہمیشہ میری توقع سے بڑھ کر میرا ساتھ دیا… مگر اپنے حیاتی رشتوں سے بچھڑنے کا درد کبھی کم نہیں ہوا۔‘‘
یہ تڑپ محض ذاتی نہ تھی؛ یہ اُن ہزاروں روحوں کا نوحہ تھی جو دنیا کے ہر خطے میں بسے ہوئے ہیں،وہ لوگ جنہیں محبت تو بے حساب ملتی ہے مگر جڑوں کی کشش انہیں پھر بھی سینہ چیر کر بلاتی ہے۔ یہ اصل میں شناخت کی پکار تھی۔اُمید کی پہلی چنگاری اسی بے آواز تڑپ میں ایک امید کی کرن نمودار ہوئی۔ گاندربل سے تعلق رکھنے والےصحافی اعجاز تانترے نے اس بہن کی آواز کو دنیا تک پہنچایا۔’’ کشمیر اسکرپٹ‘‘نامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جب تانترے نے موصوفہ کا درد، اس کی امید اور اس کی کھوج بیان کی، تو یہ کہانی وادی میں محدود نہ رہی بلکہ خزاں کی ہوا میں اڑتے چنار کے پتوں کی مانند پوری دنیا میں پھیل گئی۔سوشل میڈیا نے اسے سینکڑوں نہیں، بلکہ لاکھوں دلوں تک پہنچایا اور برسوں بعد پہلی بار اُمید خواب نہیں بلکہ حقیقت کی شکل میں اس کے دروازے تک آئی۔اس کی تلاش اب صرف دعا نہیں رہ گئی تھی یہ اجتماعی ہمدردی کی تحریک بن چکی تھی۔سفر سائنس تک جا پہنچا، ایک ڈی این اے ٹیسٹ تک۔انسانی یادداشت اور زمانے سے بگڑی دستاویزات جو نہ بتا سکیں، اسے جینیات نے آشکار کردیا۔نتیجہ وہی تھا جو اس کا دل برسوں سے کہہ رہا تھااس کی جڑیں چرارِ شریف بڈگام میں تھیں۔
وہ لمحہ جو تقدیر نے لکھا تھایہ ملاپ محض ملاقات نہ تھی یہ تقدیر کا معجزہ تھا۔تیس برسوں کی پیاس، ایک لمحے کی آغوش میں ڈھل گئی۔الفاظ کم پڑ گئے، آنسو بولنے لگے۔جو خلا عمر بھر دل میں رہا، وہ ایک ہی گلے میں سمٹ کر مٹ گیا۔چنار کچھ زیادہ روشن ہو گئے، پہاڑ کچھ زیادہ پرسکون، خزاں کا سورج کچھ زیادہ نرم…ایسا لگا جیسے پوری وادی نے اس لمحے کو گلے لگا لیا ہو۔اس معجزے کے پیچھے ایک شخص کھڑا تھا اعجاز تانترے۔انہوں نے صرف کہانی نہیں سنائی بلکہ زخم بھرے۔وہ خبر سے انسان تک کا سفر طے کرنے والے،ٹوٹے رشتوں کو جوڑنے والےصحافت کی اُس حقیقی روح کے امین بنے جس کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے۔ان کی غیر معمولی کوشش نے انہیں صحافی سے بڑھ کر اُمید کا چراغ بنا دیا۔اس تاریخی ملاپ کے فوراً بعدایس ایس پی گاندربل، خلیل احمد پوسوال نے اعجاز تانترے کو روایتی شال اور تعریفی سند پیش کی۔ایک ایسا احترام جس میں روایت بھی تھی اور سچائی کی توقیر بھی۔سماجی کارکنوں نے بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیا،اور اس انسان دوستی کے عمل کو کشمیر کی اصل روح قرار دیا۔
پھر وہ لمحہ آیا جب جموں وکشمیرکے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے گاندربل کے دورے کے دوران شخصی طور پر انہیں شال اور تعریفی سند سے نوازا،یوں ریاست نے بھی اعتراف کیا کہ کشمیر کی روح اس کے لوگوں کے رشتوں میں ہے۔یہ ملاپ کشمیر کی روح کا آئینہ ،یہ داستان صرف ایک بہن کی جیت نہیں،یہ کشمیر کی ثقافتی بنیاد کا اعلان ہے جہاں رشتے مقدس، جڑیں قیمتی،اور انسانیت ہر تقسیم سے بالا ہے۔یہ ہم سب کے لیے پیغام ہے کہ دنیا جتنی بھی بدل جائے،انسان کا سب سے بڑا سہاراجڑوں، رشتوں اور محبت میں ہی پوشیدہ ہے۔











