• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
اتوار, جنوری ۲۵, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
تقدیر کی دستک نے برسوں کی خاموشی کو گلے لگا لیا

تقدیر کی دستک نے برسوں کی خاموشی کو گلے لگا لیا

بتیس برس کا فاصلہ، ایک لمحے میں سمٹ آیا

by امت ڈیسک
26/08/2025
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

اعجاز بابا

جب اوائلِ خزاں کی سنہری دھوپ ہارمکھ گاندربل کی شاندار پہاڑیوں پر پھیلی ہوئی تھی، تو چنار کے پتے جدائی، تڑپ اور اُن اَن کہے زخموں کی داستانیں سرگوشیوں میں سناتے جنہیں دہائیوں سے خاموشی کے ساتھ سینوں میں چھپایا گیا تھا۔ کشمیر کی خزاں ہمیشہ یادوں کا موسم رہی ہے ،درخت پتوں کو رخصت کرتے ہیں، ندیاں مدھم پڑ جاتی ہیں، پہاڑوں میں ایک عجیب سی اُداسی گونجتی ہے۔ مگر انہی زردیوں کے بیچ ایک کہانی نے جنم لیا،ایک ایسی کہانی جس نے غم کو اُمید سے، بچھڑنے کو ملنے سے، اور خاموشی کو نغمے سے جوڑ دیا۔گاندربل کی اُس خاموش صبح میں ایک بہن کے دل پر جدائی کا بوجھ برسوں کا دکھ لئے بیٹھی تھی۔ تیس سے زائد برس قبل ایک بچی کے طور پر گود لی گئی، وہ محبت، سادگی، اور سنہری دل رکھنے والے لوگوں کی پرورش میں بڑی ہوئی۔ مگر گھر کی گرمجوشی اور شوہر کی بے پناہ محبت کے باوجود اس کے دل کی تہہ میں ایک زخم سلگتا رہا،اپنی حیاتی جڑوں سے محرومی کا زخم۔بتیس برس تک اس نے اس تکلیف کو خاموش داغ کی طرح اٹھایا۔ اس کے والد اسے بنا کسی نشان، بنا پتے، بنا رابطے کے چھوڑ گئے تھے۔ زندگی نے اسے سب کچھ عطا کیا تھا مگر وہ ایک چیز نہ دے سکی جواصل سے وابستگی کی آغوش، خون کے رشتے کی پہچان، اپنے ہی وجود کی آواز۔’’میرے پاس سب کچھ ہے‘‘ وہ کہتی رہتی ،’’شوہر نے ہمیشہ میری توقع سے بڑھ کر میرا ساتھ دیا… مگر اپنے حیاتی رشتوں سے بچھڑنے کا درد کبھی کم نہیں ہوا۔‘‘

یہ تڑپ محض ذاتی نہ تھی؛ یہ اُن ہزاروں روحوں کا نوحہ تھی جو دنیا کے ہر خطے میں بسے ہوئے ہیں،وہ لوگ جنہیں محبت تو بے حساب ملتی ہے مگر جڑوں کی کشش انہیں پھر بھی سینہ چیر کر بلاتی ہے۔ یہ اصل میں شناخت کی پکار تھی۔اُمید کی پہلی چنگاری اسی بے آواز تڑپ میں ایک امید کی کرن نمودار ہوئی۔ گاندربل سے تعلق رکھنے والےصحافی اعجاز تانترے نے اس بہن کی آواز کو دنیا تک پہنچایا۔’’ کشمیر اسکرپٹ‘‘نامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جب تانترے نے موصوفہ کا درد، اس کی امید اور اس کی کھوج بیان کی، تو یہ کہانی وادی میں محدود نہ رہی بلکہ خزاں کی ہوا میں اڑتے چنار کے پتوں کی مانند پوری دنیا میں پھیل گئی۔سوشل میڈیا نے اسے سینکڑوں نہیں، بلکہ لاکھوں دلوں تک پہنچایا اور برسوں بعد پہلی بار اُمید خواب نہیں بلکہ حقیقت کی شکل میں اس کے دروازے تک آئی۔اس کی تلاش اب صرف دعا نہیں رہ گئی تھی یہ اجتماعی ہمدردی کی تحریک بن چکی تھی۔سفر سائنس تک جا پہنچا، ایک ڈی این اے ٹیسٹ تک۔انسانی یادداشت اور زمانے سے بگڑی دستاویزات جو نہ بتا سکیں، اسے جینیات نے آشکار کردیا۔نتیجہ وہی تھا جو اس کا دل برسوں سے کہہ رہا تھااس کی جڑیں چرارِ شریف بڈگام میں تھیں۔
وہ لمحہ جو تقدیر نے لکھا تھایہ ملاپ محض ملاقات نہ تھی یہ تقدیر کا معجزہ تھا۔تیس برسوں کی پیاس، ایک لمحے کی آغوش میں ڈھل گئی۔الفاظ کم پڑ گئے، آنسو بولنے لگے۔جو خلا عمر بھر دل میں رہا، وہ ایک ہی گلے میں سمٹ کر مٹ گیا۔چنار کچھ زیادہ روشن ہو گئے، پہاڑ کچھ زیادہ پرسکون، خزاں کا سورج کچھ زیادہ نرم…ایسا لگا جیسے پوری وادی نے اس لمحے کو گلے لگا لیا ہو۔اس معجزے کے پیچھے ایک شخص کھڑا تھا اعجاز تانترے۔انہوں نے صرف کہانی نہیں سنائی بلکہ زخم بھرے۔وہ خبر سے انسان تک کا سفر طے کرنے والے،ٹوٹے رشتوں کو جوڑنے والےصحافت کی اُس حقیقی روح کے امین بنے جس کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے۔ان کی غیر معمولی کوشش نے انہیں صحافی سے بڑھ کر اُمید کا چراغ بنا دیا۔اس تاریخی ملاپ کے فوراً بعدایس ایس پی گاندربل، خلیل احمد پوسوال نے اعجاز تانترے کو روایتی شال اور تعریفی سند پیش کی۔ایک ایسا احترام جس میں روایت بھی تھی اور سچائی کی توقیر بھی۔سماجی کارکنوں نے بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیا،اور اس انسان دوستی کے عمل کو کشمیر کی اصل روح قرار دیا۔

پھر وہ لمحہ آیا جب جموں وکشمیرکے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے گاندربل کے دورے کے دوران شخصی طور پر انہیں شال اور تعریفی سند سے نوازا،یوں ریاست نے بھی اعتراف کیا کہ کشمیر کی روح اس کے لوگوں کے رشتوں میں ہے۔یہ ملاپ کشمیر کی روح کا آئینہ ،یہ داستان صرف ایک بہن کی جیت نہیں،یہ کشمیر کی ثقافتی بنیاد کا اعلان ہے جہاں رشتے مقدس، جڑیں قیمتی،اور انسانیت ہر تقسیم سے بالا ہے۔یہ ہم سب کے لیے پیغام ہے کہ دنیا جتنی بھی بدل جائے،انسان کا سب سے بڑا سہاراجڑوں، رشتوں اور محبت میں ہی پوشیدہ ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

خان یونس کے ناصر ہاسپٹل پر اسرائیلی فضائی حملہ، 15 جاں بحق افراد میں 4 صحافی شامل

Next Post

مٹی کے تودے گر آنے سے سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک معطل

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

ادھمپور کی جانب سے پھنسی ہوئی گاڑیاں نکال لی گئیں، جموں جانے والی ٹریفک معطل

ادھمپور کی جانب سے پھنسی ہوئی گاڑیاں نکال لی گئیں، جموں جانے والی ٹریفک معطل

25/01/2026
وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم  وانی کو کابینہ وزیر کا درجہ دے دیا گیا

وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم وانی کو کابینہ وزیر کا درجہ دے دیا گیا

24/01/2026
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کھیلے گا ٹی20 ورلڈ کپ

24/01/2026
کشمیر میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان

کشمیر میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان

24/01/2026
یوم جمہوریہ کی تقریب سے قبل تمام انتظامات مکمل، برفباری کے بعد زمینی اور ہوائی رابطہ بحال،صوبائی کمشنر کشمیر

یوم جمہوریہ کی تقریب سے قبل تمام انتظامات مکمل، برفباری کے بعد زمینی اور ہوائی رابطہ بحال،صوبائی کمشنر کشمیر

24/01/2026
مبینہ حملے کے بعد تہار میں ایم پی انجینئر رشید کو جیل نمبر 1 منتقل کیا گیا

عدالت نے رکنِ پارلیمنٹ انجینئر رشید کو حراستی پیرول پر بجٹ اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی

24/01/2026
Next Post
مرمتی کام کے پیش نظر جموں سرینگر شاہراہ ٹریفک کے لئے بند

مٹی کے تودے گر آنے سے سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک معطل

سانبہ، اُدھمپور اور کٹھوعہ اضلاع میں دریاؤں کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر

سانبہ، اُدھمپور اور کٹھوعہ اضلاع میں دریاؤں کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر

ڈوڈہ میں شدید بارش کے باعث چار ہلاک، املاک کو نقصان، وزیر اعلیٰ نے جائزہ اجلاس بلایا

ڈوڈہ میں شدید بارش کے باعث چار ہلاک، املاک کو نقصان، وزیر اعلیٰ نے جائزہ اجلاس بلایا

جہلم میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے تجاوز کر گئی؛ کمشنر کشمیر نے ایڈوائزری جاری کر دی؛ ہیلپ لائن فعال

جہلم میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے تجاوز کر گئی؛ کمشنر کشمیر نے ایڈوائزری جاری کر دی؛ ہیلپ لائن فعال

ویشنو دیوی میں لینڈ سلائیڈنگ: ہلاکتوں کی تعداد 32 ہوگئی، ریسکیو آپریشن جاری

ویشنو دیوی میں لینڈ سلائیڈنگ: ہلاکتوں کی تعداد 32 ہوگئی، ریسکیو آپریشن جاری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »