امت نیوز ڈیسک //
تیانجن (چین)، 01 ستمبر: وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے دوران کہا کہ یوکرین تنازع کو جتنی جلد ممکن ہو ختم کرنا انسانیت کی آواز ہے۔ مودی اور پیوٹن کی ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر ہوئی، ایسے وقت میں جب بھارت اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے مشکل دور سے گزر رہے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیکس پالیسی اور نئی دہلی پر ان کی حکومت کی مسلسل تنقید ہے۔
وزیر اعظم اور روسی صدر نے معیشت، مالیات اور توانائی سمیت دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں پر بات چیت کی اور ان شعبوں میں مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا، جیسا کہ بھارتی بیان میں کہا گیا۔
مودی نے اپنے براہِ راست خطاب میں کہا:
"ہم یوکرین میں امن قائم کرنے کی حالیہ کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ متعلقہ فریقین تعمیری انداز میں آگے بڑھیں گے۔ انسانیت کی آواز ہے کہ اس تنازع کو جلد ختم کیا جائے اور مستقل امن قائم کرنے کے راستے تلاش کیے جائیں۔”
مودی نے یہ بھی کہا کہ بھارت روسی صدر کے استقبال کا منتظر ہے۔ پیوٹن رواں سال دسمبر میں مودی کے ساتھ سربراہی اجلاس کے لیے بھارت کا دورہ کریں گے۔
مودی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں بھی بھارت اور روس ہمیشہ شانہ بشانہ آگے بڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور روس کے قریبی تعلقات عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے بے حد اہم ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ (MEA) کے بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی بات چیت کی، جن میں یوکرین سے متعلق تازہ ترین پیش رفت بھی شامل ہے۔ وزارت نے کہا:
"وزیرِ اعظم نے یوکرین تنازع کے حل کے لیے حالیہ اقدامات کی حمایت دہراتے ہوئے زور دیا کہ جنگ بندی کے عمل کو تیز کیا جائے اور پائیدار امن کے معاہدے کی راہ نکالی جائے۔”
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ بھارت اور روس کے مابین خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔








