امت نیوز ڈیسک //
بڈگام: ریلویز نے جمعرات کو دو پارسل وینز کی سروس شروع کی ہے تاکہ وادیٔ کشمیر سے پھلوں کو جموں اور دہلی تک پہنچایا جا سکے۔ یہ اقدام باغبانی کے شعبے کے لیے بڑی راحت کا باعث ہے، جو حالیہ دنوں میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے سری نگر-جموں ہائی وے کی طویل بندش کے سبب بھاری نقصان جھیل رہا تھا۔
ریلوے حکام کے مطابق بڈگام اسٹیشن سے دو خصوصی پارسل وین روانہ کی گئیں، ایک دہلی کے لیے اور دوسری جموں کے لیے، جو اس موسم کے بہترین کشمیری سیب لے کر جا رہی تھیں۔
حکام نے اس اقدام کو کشمیر کی لاجسٹکس میں ایک انقلابی قدم قرار دیا اور کہا کہ اس سے وادی کی مشہور باغبانی پیداوار کو قومی منڈیوں تک تیزی اور بھروسے کے ساتھ پہنچایا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا: “کمزور سڑک رابطوں پر انحصار کم کرکے یہ براہِ راست ریلوے خدمات تجارت کے ایک نئے باب کا آغاز ہیں۔ اس سے باغبانی کے شعبے کو تقویت ملے گی اور مجموعی طور پر کشمیر کی معیشت کو نئی رفتار ملے گی۔”
مرکزی وزیرِ ریلوے اشونی ویشنَو نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ جموں-سری نگر ریل لائن کے فعال ہونے کے ساتھ ہی وادی کو بہتر کنیکٹیویٹی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: “ریلوے 13 ستمبر 2025 سے بڈگام (کشمیر) سے دہلی کے آدرش نگر اسٹیشن تک روزانہ ٹائم ٹیبلڈ پارسل ٹرین شروع کر رہا ہے۔ بڈگام سے دہلی کے لیے سیب لے جانے والی دو پارسل وینز کی لوڈنگ آج سے شروع ہو گئی ہے۔”
ریل پر مبنی پھلوں کی ترسیل سے بعد از کٹائی نقصانات کم ہونے، تیز تر ڈلیوری ہونے اور کاشتکاروں کو وادی سے باہر بڑی منڈیوں تک بہتر رسائی ملنے کی توقع ہے۔











