امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 11 ستمبر :عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے جمعرات کو الزام لگایا کہ انہیں سرینگر میں حراست میں لے لیا گیا اور ایک طے شدہ پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا گیا۔
راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ اور دہلی کے ایم ایل اے عمران حسین، جو جموں و کشمیر میں پارٹی کے انچارج بھی ہیں، نے کہا کہ انتظامیہ نے انہیں چرچ لین کے ایک گیسٹ ہاؤس میں محصور کر دیا ہے اور میڈیا سے بات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
فون پر کشمیر نیوز ٹرسٹ سے بات کرتے ہوئے عمران حسین نے کہا:
"یہاں جمہوریت کا قتل ہو رہا ہے۔ ہمیں پریس کانفرنس کرنی تھی لیکن اجازت نہیں دی گئی۔ ہمیں چرچ لین کے گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہے، اس کا گیٹ بند کر دیا گیا ہے اور ہماری حراست کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔”
انہوں نے کہا کہ وہ پریس کانفرنس میں ڈوڈہ کے عام آدمی پارٹی ایم ایل اے مہراج ملک کی حراست کا معاملہ اجاگر کرنا چاہتے تھے، جنہیں حال ہی میں پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت جیل بھیجا گیا ہے۔
عمران حسین نے کہا:”مہراج ملک جیل میں ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے لوگوں کے مسائل اٹھائے۔ وہ ایک منتخب نمائندہ ہیں۔ اگر منتخب نمائندوں کو بولنے اور اپنی آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں ہے تو پھر ایم ایل اے ہونے کا مقصد کیا ہے اور جمہوریت کا مطلب کیا ہے؟”
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی اس معاملے کو نئی دہلی میں اٹھائے گی۔
راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ یہ آمریت کی کھلی مثال ہے۔
"کیا جمہوریت میں پریس کانفرنس کرنا جرم ہے؟ کیا ایک منتخب ایم ایل اے کی ‘غیر قانونی’ حراست کے خلاف احتجاج کرنا جرم ہے؟” سنجے سنگھ نے سوال کیا۔











