امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: لگاتار چوتھے روز بھی ڈوڈہ ضلع میں سخت پابندیاں عائد رہیں کیونکہ حکام نے جمعہ کی نماز کے بعد ممکنہ احتجاج کے خدشے کے پیش نظر سیکورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے اور تعلیمی ادارے بند رکھنے کے احکامات جاری کیے۔ کرفیو سختی کے ساتھ نافذ رہا اور پولیس نے وینز اور لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی۔
افسران کے مطابق کئی احتجاجی جھڑپوں والے علاقوں کو سیل کر دیا گیا جبکہ پورے ضلع میں انٹرنیٹ خدمات معطل رہیں۔ مہراج ملک کے آبائی گاؤں میں موبائل کالنگ کی سہولت بھی بند کر دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ اب تک 80 سے زائد افراد، جن میں کئی خواتین بھی شامل ہیں، احتجاج کے سلسلے میں گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ یہ احتجاج عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے مہراج ملک کی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے بعد شروع ہوا۔
ایک افسر نے بتایا: "ڈوڈہ کے تمام اسکول ہفتہ تک بند رہیں گے۔ اگر حالات بہتر ہوئے تو اسکول پیر سے کھلنے کا امکان ہے۔”
کٹھن پابندیاں اور وسیع پیمانے پر گرفتاریاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ رکن اسمبلی کی گرفتاری کے بعد سے ضلع میں فضا انتہائی کشیدہ ہے۔ (کے این ٹی)










