امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 16 ستمبر: عوامی اتحاد پارٹی نے منگل کو سرینگر کے پریس کالونی میں زوردار احتجاج کیا اور سرینگر۔جموں قومی شاہراہ پر پھنسے ہوئے سیب سے لدے ٹرکوں کو فوری طور پر نکالنے کا مطالبہ کیا۔
سیکڑوں کارکنوں نے، جن کی قیادت ایم ایل اے لنگیٹ شیخ خورشید کر رہے تھے، “سیب بچاؤ، کشمیر بچاؤ” کے نعرے بلند کئے اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ دانستہ طور پر وادی کی باغبانی معیشت کو تباہ کر رہی ہے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ٹرکوں میں سڑتے ہوئے سیب اور باغبانوں کو درپیش مالی تباہی کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم ایل اے شیخ خورشید نے کہا کہ یہ بندش دراصل کشمیر پر ایک "معاشی حملہ” ہے۔ انہوں نے کہا: "لاکھوں خاندان اپنی روزی روٹی کے لئے باغبانی پر منحصر ہیں۔ سیب کی کھیپوں کو کئی دنوں تک پھنسائے رکھ کر انتظامیہ کشمیر کی معیشت کو خاموشی سے کچل رہی ہے۔ خالی وعدے باغبانوں کو نہیں بچا سکتے، صرف فوری کارروائی ہی ان کی مدد کر سکتی ہے۔”
تاہم احتجاج کو پولیس نے فوراً منتشر کر دیا اور پارٹی کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار شدگان میں ایم ایل اے لنگیٹ شیخ خورشید، چیئرمین پی اے سی اشتیا ق قادری، پارٹی ترجمان فردوس بابا، سینئر رہنما اعجاز احمد لون، پروفیسر نصیر راتھر، ڈی ڈی سی خورشید احمد ڈار، شمالی کشمیر کے ترجمان ایڈوکیٹ شہنواز میر، سابق بی ڈی سی چیئرمین شوکت احمد پنڈت اور بشیر احمد، ایڈووکیٹ مظفر اور شیخ طارق شامل ہیں۔
اے آئی پی کے چیف ترجمان انعام اُن نبی نے پارٹی رہنماؤں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے باغبانوں کی حقیقی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا: "سیب سے لدے ٹرکوں کے لئے آزادانہ راستہ یقینی بنانے کے بجائے حکومت ان لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے میں مصروف ہے جو عوام کے لئے بولتے ہیں۔ سیب کی فصل کو بچانا دراصل کشمیر کی روزی روٹی کی ریڑھ کی ہڈی کو بچانا ہے، اور کوئی بھی جبر ہمیں اس کے دفاع سے روک نہیں سکتا۔”










