وادی کشمیر کی معیشت کی ریڈی کی ہڈی تصور کی جانی والی میوہ صنعت کی ہڈی ٹوٹنے کے قریب ہے۔ پہلگام حملے کے بعد جہاں وادی کشمیر کے سیاحتی شعبے کو بڑا دھچکا لگا، ابھی اس نقصان سے کشمیری ابھر ہی رہے تھے کہ میوہ صنعت کو شدید نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ ستمبر کے پہلے ہفتے میں جہاں جنوبی کشمیر میں سیلاب سے میوہ تباہ ہوا اور اسی ماہ کے وسط میں جموں سرینگر قومی شاہراہ کی بندش نے باغ مالکان کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ سیاسی جماعتوں کا الزام ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں بلکہ پچھلے کئی برسوں سے ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ جب وادی میں سیب کا سیزن عروج پر پہنچتا ہے تو شاہراہ پر کوئی مسئلہ ہو جاتا ہے۔کئی مقامات پر پتھر اور پسیاں گر آنے کے باعث قومی شاہراہ ٹریفک کے لیے 26 اگست کو بند کر دی اور 14 روز تک یہ شاہراہ بند رہی۔ اسکے بعد اگرچہ شاہراہ ٹریفک کے لیے بحال کر دی گئی تاہم ادھم پور کے تھڑڑ کے مقام پر سڑک دھسنے کے باعث سرینگر سے جموں کی طرف میوہ ٹرکوں کو کئی روز تک چلنے کی اجازت نہیں ملی جس کے باعث شاہراہ پر درماندہ ہزاروں ٹرکوں میں میوہ سڑ گیا جس کے میوہ صنعت کو کروڑوں کا نقصان ہوا۔
میوہ تاجروں کی تنظیم’’کشمیر ویلی فروٹ گروورز کم ڈیلرز یونین‘‘ نے کہا کہ شاہراہ کی بندش سے میوہ صنعت کو 1200 کروڑ کا نقصان ہوا، تاہم سوپور منڈی کے تاجروں نے نقصان 5000 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیاہیں۔
سیاسی جماعتوں نے سرکار کو گھیرا
کروڑوں کے نقصان کے بعد بھی جب شاہراہ کو بحال نہیں کیا گیا تو چودہ ستمبر کو وادی کی تمام فروٹ منڈیوں میں تاجروں کی طرف سے شدید احتجاجی مظاہرے کیے گیے اور اس دوران وزیر اعلی عمر عبداللہ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ایشیا کی دوسری سب سے بڑی فروٹ منڈی سوپور میں تاجروں کے احتجاج کے دوران منڈی صدر فیاض احمد ملک نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا، ’اگر وزیر اعلیٰ پھل سے بھرے ٹرکوں کی آمد و رفت بحال نہیں کر سکتے تو انہیں کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں، بہتر ہے استعفیٰ دیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آج تک کسی بھی ایم ایل اے نے باغبانوں کے حق میں ایک لفظ نہیں بولا۔ باوجود اسکے کہ فیاض احمد ملک موجودہ کابینہ وزیر جاوید احمد ڈار کے کافی قریبی ساتھی مانے جاتے ہیں۔پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور رکن اسمبلی سجاد لون نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اس معاملے پر لکھا کہ،”ملک کے دیگر حصوں کے لیے تیار سیب گل سڑ رہے ہیں، اور باغبانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یقیناً اس کے تدارک کے کچھ اقدامات ہونے چاہییں۔ خراب موسم حکومت کی غلطی نہیں ہے، لیکن تماشائی بن کر خاموش بیٹھے رہنا اور کچھ نہ کرنا جرم ہے۔میری عاجزانہ گزارش ہے کہ وزیر اعلیٰ صاحب! ملک بھر میں بےمقصد بھٹکنے کے بجائے اپنے افسران اور متعلقہ فریقین کے ساتھ بیٹھیں اور کوئی حکمتِ عملی وضع کریں۔“
وہیں عمر عبداللہ پر الیکشن کے وعدوں سے انخراف ہونے کا الزام لگانے والے این سی کے ہی قدآور لیڈر اور رکن پارلیمان سرینگر آغا سید روح اللہ مہدی نے بڑا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’گزشتہ سال بھی ٹرکوں کو جان بوجھ کر روکا گیا تھا اور اس سال پھر وہی صورتحال دہرائی جا رہی ہے، جس سے کاشتکاروں اور تاجروں کو ناقابل تلافی معاشی نقصان سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا،’’اگر جموں سے ٹرکوں کو سرینگر کی طرف جانے کی اجازت دی جا رہی ہے تو ہماری میوہ سے لدے ٹرکوں کو آگے بڑھنے کیوں نہیں دیا جا رہا؟ اس سے پہلے بھی، تقریباً ایک سال قبل، ہمارے میوہ سے بھرے ٹرک شاہراہ پر جان بوجھ کر روکے گئے تھے اور میوہ سڑ کر ضائع ہو گیا تھا۔ یہ ہماری معیشت پر حملے کا ایک واضح طریقہ کار ہے۔ شاہراہ کی بندش بھی اسی سازش کا حصہ ہے اور یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے۔‘‘
سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر اور کولگام رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے سرکار کے سامنے کسانوں کے لیے کئی مطالبے رکھے۔ ایک پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے تاریگامی نے کہا کہ”شاہراہ کی طویل بندش نے کسانوں اور باغبانوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر سوامی ناتھن کمیشن کی کسانوں سے متعلق سفارشات آج بھی زیادہ تر غیر نافذ ہیں۔ جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ بری طرح متاثر ہیں، لیکن سیب کو مارکیٹ انٹروینشن سکیم (ایم ایس پی) کی سفارشات میں شامل نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حکام کے بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود پردھان منتری فصل بیمہ یوجنامیں کسانوں کی سب سے اہم فصل یعنی سیب کی پیداوار کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری فصلیں جن میں نقصان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، انہیں شامل کیا گیا، جبکہ سیب جیسی سب سے زیادہ متاثر ہونے والی فصل کو باہر رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انشورنس کمپنیاں اور ایگریکلچر انشورنس کمپنی 2016 سے اب تک سینکڑوں کروڑ روپے کا پریمیم وصول کرچکی ہیں، مگر وہ سیب کی فصل کو بیمہ کرنے میں ہچکچا رہی ہیں۔تاریگامی نے مزید کہا کہ مرکز کو چاہیے کہ وہ سیلاب متاثرین اور ان باغبانوں و تاجروں کے لیے خاطر خواہ ریلیف کا اعلان کرے جنہیں خراب موسم، سیلاب اور شاہراہ کی بندش کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
وہیں جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے جموں سری نگر قومی شاہراہ ایک’’ناکام پروجیکٹ‘‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ سرنگ کے بغیر یہ سڑک ناکام ہے۔ لاکھوں ٹن دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ ہم فطرت کو چیلنج کر رہے ہیں اور یہ قدرت کی طرف سے ایک سزا ہے۔ قرہ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پھلوں اور ایندھن کو منتقل کرنے کے لیے اضافی ریلوے بوگیاں فراہم کرے اور مغل روڈ کو خصوصی طور پر ٹرکوں کے لیے وقف کرے۔
وزیر اعلی کا ردعمل
وہیں میڈیا نمائندوں نے جب عمر عبداللہ سے پوچھا کہ تاجر آپ پر ناکامی کا الزام لگاکراستعفیٰ دے دینا چاہیے، جس پر عمر عبداللہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ” اگر یہ شاہراہ میرے کنٹرول میں ہوتی تو میں کب کا اسے بحال کر چکا ہوتا۔ یہ سڑک حکومت ہند کے ماتحت ہے۔ اگر وہ اسے نہیں سنبھال سکتے تو ہمیں دے دیں۔‘‘
وہیں اسکے بعد مرکزی وزیر برائے سڑک، ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری نے سرینگر۔جموں نیشنل ہائی وے کی بحالی کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ طلب کی۔ جس میں وزیر اعلی نے ورچوئل موڈ کے زریعے میٹنگ میں حصہ لیا۔جس کے بعد عمر عبداللہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ میٹنگ میں فوری اقدامات پر غور کیا گیا تاکہ نیشنل ہائی وے کو پھلوں سے لدے ٹرکوں کی فوری آمد و رفت اور ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی کے لئے مکمل طور پر بحال کیا جا سکے۔تاہم اس پر محبوبہ مفتی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ قومی شاہراہ ہمیشہ مرکزی حکومت کے کنٹرول میں رہی ہے، چاہے وہ فاروق عبداللہ کا دور ہو، عمر عبداللہ کا ہو یا موجودہ انتظامیہ کا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جو بات وزیر اعلی نے آج نتن گڈکری کیساتھ کی وہ پندرہ روز پہلے بھی کی جا سکتی تھی۔ وہیں سجاد لون نے ایکس پر ایک پوسٹ عمرعبداللہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ”سینکڑوں کروڑ روپے کے گلے سڑے سیبوں کے نقصان کے بعد ہی بھٹکے وزیراعلیٰ کو ایک بیان جاری کرنے کی توفیق ہوئی۔
سیب کی صنعت کشمیری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ایک ایسی معیشت جو پہلے ہی سیاحت کے نقصان کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، اب باغبانی کے نقصان سے بھی دوچار ہو چکی ہے۔حکومتِ وقت کی محض تشویش کا اظہار کرنا ایک عیاشی ہے۔“ انہوں نے کہا کہ این ایچ اے آئی قومی شاہراہ کو سنبھالتا ہے۔ اور ہمیں یہ مت کہیے کہ اس میں مقامی حکام کے ساتھ کوئی تال میل نہیں ہے۔ انہوں کہا کہ شالیں تحفے میں دینے والے وزیر اعلیٰ صاحب کو دہلی جا کر وزیروں سے ملنے اور شاہراہ کی فوری بحالی کو یقینی بنانے سے کس نے روکا؟ کیا آپ وہاں گئے بھی تھے؟ کیا آپ نے یہ دکھاوا بھی کیا کہ آپ کو پرواہ ہے؟“
اس سب تنقید اور تاجروں کے احتجاج کے بعد 17 ستمبر سے سرینگر سے جموں کی طرف میوہ گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی گئی۔
تاہم یہ سب میوہ صنعت کو کروڑوں کا نقصان ہو نے کے بعد ہی ممکن ہو پایا۔
میوہ صنعت کا معیشت میں حصہ
کشمیر کی میوہ صنعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دی جاتی ہے اور جموں و کشمیر کے جی ڈی پی میں نمایاں حصہ ڈالتی ہے۔ اندازے کے مطابق باغبانی کا شعبہ جموں کشمیر کی جی ڈی پی میں تقریباً 9 فیصد کا کردار ادا کرتا ہے، جبکہ صرف سیب کی صنعت ہی قریب 8 فیصد جی ڈی پی میں حصہ ڈالتی ہے۔ وہیں اعداد و شمار کے مطابق زرعی و باغبانی شعبہ مجموعی طور پر جموں و کشمیر کے جی ڈی پی کا تقریباً 78 فیصد ہے۔ وادی میں تقریباً سات لاکھ خاندان صرف سیب کی صنعت سے وابستہ ہیں، جب کہ اخروٹ، بادام اور ناشپاتی جیسے دیگر میوے بھی ریاستی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔ تاہم گرشتہ برسوں ایک طرف سے دیگر ممالک خاص طور پر امریکہ اور ایران سے میوے سے درآمد سے جہاں کشمیر کی میوہ صنعت کو شدید نقصان پہنچا وہیں اب مسلسل کئی برسوں سے اس صنعت کی اس شاہراہ نے کمر توڑ کر رکھ دی۔










