امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے H-1B ویزا فیس میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ یہ فیس پہلے 4,500 ڈالر تھی، جسے اب بڑھا کر 100,000 ڈالر کر دیا گیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اس صورتحال پر وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا، "میں دہراتا ہوں، بھارت کا وزیر اعظم کمزور ہے۔” راہل گاندھی کا یہ بیان مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور بھارتی کارکنوں کے مفادات کے تحفظ میں ناکامی پر سوال اٹھاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مضبوط وزیر اعظم ایسی صورتحال کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتا تھا۔
H-1B ویزا حاصل کرنے والوں میں 71 فیصد بھارتی شامل ہیں۔ فیس میں اس بھاری اضافے کا براہ راست اور منفی اثر ہندوستانی کارکنوں پر پڑے گا۔ بہت سی کمپنیاں اب ہندوستانیوں کو ملازمت دینے سے گریز کر سکتی ہیں۔ یہ فیصلہ ان ہزاروں بھارتیوں کے خوابوں کو متاثر کرے گا جو امریکہ میں بہتر مستقبل کی تلاش میں ہیں۔ ان کے لیے اب امریکہ جانا اور وہاں کام کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
یہ فیصلہ ان کمپنیوں پر لاگو ہوگا جو H-1B ویزا کے تحت کارکنوں کی خدمات حاصل کرتی ہیں۔ اس نئے حکم نامے پر صدر ٹرمپ نے جمعہ کو دستخط کیے ہیں۔ یہ اقدام بھارتی کارکنوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو امریکہ میں کام کرنے کے لیے اس ویزا پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے H-1B ویزا فیس میں اضافے کے ساتھ ہی ایک "گولڈ کارڈ” ویزا بھی متعارف کرایا ہے۔ یہ ویزا 10 لاکھ ڈالر کی فیس کے ساتھ امریکی شہریت حاصل کرنے کا ایک ممکنہ راستہ فراہم کرتا ہے۔ یہ امیر سرمایہ کاروں کے لیے ایک نیا آپشن ہے۔









