امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 26 ستمبر : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے لداخ کے ماہرِ ماحولیات اور سماجی کارکن سونم وانگچک کی گرفتاری پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’’انتہائی بدقسمتی‘‘ قرار دیا اور مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ بار بار لداخ کے عوام سے کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔
عمر عبداللہ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا:’’مجھے نہیں معلوم کہ مرکزی حکومت لداخ کے عوام سے کیے گئے وعدوں سے کیوں پیچھے ہٹتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے ساتھ جموں و کشمیر میں وعدے کیے گئے تھے۔‘‘
انہوں نے یاد دلایا کہ لیہہ میں پچھلے ہل کونسل انتخابات سے قبل ایک مرکزی وزیر نے اس وقت خطے کا دورہ کیا تھا جب مقامی لوگوں نے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’اس وزیر نے کچھ وعدے کیے، جس کے بعد عوام نے انتخابات میں حصہ لیا اور بی جے پی کامیاب ہوئی۔ لیکن وہ وعدے آج تک پورے نہیں ہوئے،‘‘۔
اگرچہ انہوں نے وانگچک کی گرفتاری کی تفصیلات سے لاعلمی کا اظہار کیا، تاہم اس پیش رفت کو افسوسناک قرار دیا۔
تشدد کو جائز قرار دینے کے الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے انہیں یکسر مسترد کیا اور اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا: ’’میں نے کبھی بھی تشدد کو جائز قرار نہیں دیا، نہ ہی میں لداخ کا لیفٹیننٹ گورنر ہوں۔ اپوزیشن لیڈر کو بہانے بنانا بند کرنا چاہیے۔ جموں و کشمیر کے عوام کا کیا قصور ہے؟ صرف اس لیے کہ وہ اپوزیشن لیڈر ہیں اور وزیر اعلیٰ نہیں ہیں، کیا مرکز ریاستی درجہ بحال کرنے سے انکار کرتا ہے؟‘‘
عمر عبداللہ کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے ہیں جب لداخ میں چھٹے شیڈول کے تحفظات کے مطالبے پر ہونے والے پُرتشدد احتجاج کے بعد سیاسی و سلامتی کی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے، جس میں رواں ہفتے چار عام شہری ہلاک ہوئے۔
سونم وانگچک، جو عالمی شہرت یافتہ ماہرِ ماحولیات ہیں، کو جمعہ کے روز لیہہ میں گرفتار کیا گیا۔ وزارتِ داخلہ نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے مظاہروں کو ہوا دی۔









