امت نیوز ڈیسک ///
لداخ انتظامیہ نے ہفتہ کی رات ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حراست کا دفاع کیا۔ وانگچک کو جمعہ کو راجستھان کی جودھپور جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
انتظامیہ نے الزام لگایا کہ وانگچک کی "اشتعال انگیز تقاریر اور ویڈیوز” جن میں نیپال کی تحریکوں اور عرب بہار کا حوالہ شامل تھا، نے 24 ستمبر کو لے میں پرتشدد واقعات کو جنم دیا۔ ان فسادات میں چار افراد ہلاک ہوئے، متعدد زخمی ہوئے اور عمارتوں و گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
"لیہہ جیسے پُرامن شہر میں معمولات بحال کرنے کے لیے ضروری تھا کہ وانگچک کو مزید ایسی سرگرمیوں سے روکا جائے جو امن عامہ کے لیے نقصان دہ ہوں،” انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا۔ اس پر بار بار ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا جو "امن، سکیورٹی اور بنیادی خدمات کے لیے نقصان دہ” تھیں۔
ماحول دوست کارکن، جو لے کے علاقے اُلے ٹوپکو کے رہائشی اور سونم وانگیال کے بیٹے ہیں، ریاستی درجے اور چھٹی شیڈول کے تحت لداخ کے تحفظ کے مطالبے پر تین ہفتے کی بھوک ہڑتال پر تھے۔ بھوک ہڑتال کے پندرہویں روز جب دو مظاہرین کی صحت بگڑ گئی تو حالات تشویشناک ہو گئے اور تشدد بھڑک اٹھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہوتی جب مرکز نے لداخ کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کیے، تو یہ افسوسناک واقعہ ٹل سکتا تھا۔
دوسری جانب لداخ کی مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی جماعتوں نے وانگچک کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ لے شہر میں بدستور کرفیو نافذ ہے، جبکہ کرگل میں جمعہ کو مکمل ہڑتال کی گئی۔ کرگل میں بڑے اجتماعات پر پابندی کے لیے بھارتیہ نیائے سنہیتا کی دفعہ 163 بھی نافذ کر دی گئی ہے۔










