امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 2 اکتوبر: رواں ہفتے جموں و کشمیر میں ایک بڑا موسمی نظام اثر انداز ہونے والا ہے۔ محکمہ موسمیاتِ ہند نے پیشگوئی کی ہے کہ مغربی ہوا کے ایک نئے سلسلے کے سبب 4 اکتوبر سے 7 اکتوبر تک وسیع پیمانے پر بارش اور برفباری ہوگی۔ سب سے زیادہ شدید موسمی صورتحال 5 اکتوبر کی رات سے 7 اکتوبر کی صبح کے دوران متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کی سرینگر شاخ کی جانب سے ڈویژنل کمشنرز کشمیر اور جموں سمیت علاقائی حکام کو بھیجی گئی ایڈوائزری کے مطابق، وادی کے میدانی علاقوں میں معتدل سے شدید بارش جبکہ بالائی علاقوں میں بھاری برفباری ہوگی۔
متاثرہ مقامات میں اننت ناگ–پہلگام، کولگام، سنتھن پاس، شوپیاں، پیر کی گلی، سونہ مرگ–زوجیلا، گلمرگ، بانڈی پورہ–رضدان پاس اور کپواڑہ–سدھنا پاس شامل ہیں۔ بالائی پہاڑی علاقوں میں بھاری برف جمع ہوسکتی ہے جبکہ درمیانی پہاڑی خطوں میں بھی معتدل برفباری کا امکان ہے۔
کشمیر وادی کے میدانی علاقوں میں مسلسل معتدل سے شدید بارش متوقع ہے جبکہ جموں ڈویژن کے بعض مقامات پر انتہائی شدید بارش ہوسکتی ہے، جس کے ساتھ گرج چمک، ژالہ باری اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔ ان ہواؤں کی رفتار 40–50 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ جھکڑوں کی رفتار 70 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سطحی ٹرانسپورٹ بری طرح متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر جموں–سرینگر اور سرینگر–لداخ شاہراہوں پر، نیز اندرونی پہاڑی علاقوں میں۔ ڈھلوانی علاقوں میں مٹی کے تودے اور پتھروں کے گرنے کے خطرات بھی ہیں۔
یونین ٹیریٹری کے کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اس دوران کھیتی باڑی کی سرگرمیاں معطل رکھیں تاکہ کھڑی فصلوں کو نقصان سے بچایا جا سکے اور اپنی جان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ دریا کے کناروں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے مکینوں کو ہوشیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے کیونکہ پانی کی سطح بڑھنے اور عارضی آبی جمع ہونے کا امکان ہے۔
ایڈوائزری کا مقصد عوامی آگاہی بڑھانا اور حکام کو ضروری احتیاطی اقدامات کے لیے تیار کرنا ہے۔ عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس دوران سفر سے قبل موسمی و ٹریفک اپڈیٹس باقاعدگی سے چیک کریں اور خطرناک علاقوں سے گریز کریں۔
حکام صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور موسمی نظام کے مزید بڑھنے پر تازہ ہدایات جاری کی جائیں گی۔ (کے این ایس)










