امت نیوز ڈیسک //
بھارت اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے بیچ وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے اتوار کے روز واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ تجارتی معاہدے میں بھارت کی ‘لکشمن ریکھا’ یعنی خودمختاری، قومی مفادات اور پالیسی حدود کا احترام کیا جانا لازمی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفاہمت کی بنیاد تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
جے شنکر نے کوٹیلیہ اکنامک انکلیو میں “افراتفری کے دور میں خارجہ پالیسی کی نوعیت” پر ایک پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ بعد ازاں پریس کانفرنس میں انہوں نے بھارت-امریکہ تجارتی تعلقات میں درپیش مسائل اور حل کی کوششوں پر تفصیل سے بات کی۔
امریکہ کے ساتھ ہمارے کچھ مسائل
جے شنکر نے کہا، “آج ہمارے امریکہ کے ساتھ کچھ مسائل ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی تجارتی بات چیت میں کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں، اور ایسا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے، ہندوستان پر ایک مقررہ ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “اس کے علاوہ، ایک دوہرا ٹیرف ہے، جسے ہم عوامی طور پر کہہ چکے ہیں کہ ہم اسے انتہائی غلط سمجھتے ہیں۔ یہ ٹیرف ہمیں روس سے خام تیل خریدنےکے لیے نشانہ بنایا جارہا ہے، جب کہ بہت سے دوسرے ممالک بھی ایسا ہی کر رہے ہیں، جن میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جن کے روس کے ساتھ اس وقت ہمارے مقابلے میں ان کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔”
بھارت پر ٹیرف کیوں لگائے گئے؟
نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات اس وقت سے سخت تناؤ کا شکار ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے ہندوستانی اشیا پر محصولات کو دوگنا کرکے 50 فیصد کردیا تھا۔ اس میں ہندوستان کی روسی خام تیل کی خریداری پر اضافی 25 فیصد ٹیرف شامل ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حالیہ مہینے میں پی ایم نریندر مودی اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد، دونوں ممالک نے تجارتی معاہدے پر پیش رفت کی کوششیں دوبارہ شروع کی ہیں۔
بھارت کی پالیسی: لچکدار لیکن خودمختار
جے شنکر نے کہا:”ہمیں ایسی مفاہمتی زمین تلاش کرنی ہے، جہاں بھارت کی پالیسی حدود کا احترام ہو۔ مارچ سے ہی اس پر بات چیت جاری ہے۔”انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ تجارتی مسائل کا تعلق باہمی تعلقات کے ہر پہلو سے نہیں ہے۔”رشتے کے بڑے حصے میں یا تو پرانی حالت برقرار ہے یا کچھ معاملات میں بہتری بھی آئی ہے۔”
بین الاقوامی نظام میں تبدیلی
اپنے خطاب میں وزیر خارجہ نے عالمی منظرنامے پر بھی بات کی اور کہا کہ:”دنیا اس وقت تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور نظام کمزور ہو رہے ہیں یا بعض صورتوں میں ختم بھی ہو رہے ہیں۔”
• بھارت-امریکہ کے تجارتی رشتے میں ٹیرف کا تنازع اہم رکاوٹ
• بھارت روس سے خام تیل کی خرید پر عائد امریکی ٹیرف کو غیر منصفانہ سمجھتا ہے
• راہ حل کی تلاش جاری، معاہدے کے لیے “بھارت کی سرخ لکیر” کا احترام ضروری
• امریکہ کے ساتھ تجارتی مفاہمت بھارت کی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ
وزیرخارجہ کا دوٹوک پیغام:
“ہم مسئلوں کا حل چاہتے ہیں، لیکن اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔”









