امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 10 اکتوبر: سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز مرکز کو جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر جواب داخل کرنے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دے دی۔
چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوائی نے درخواست گزاروں اور مرکز کی جانب سے دی گئی دلیلات سننے کے بعد، عدالتی حکم نامہ تحریر کرتے ہوئے مرکز کو چار ہفتوں کا وقت دیا تاکہ وہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر اپنا موقف پیش کر سکے۔
چیف جسٹس نے پہلگام دہشت گرد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کا فیصلہ تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔
اس سے قبل، سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن نے درخواست گزاروں کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ "ریاستی حیثیت 2019 میں ختم کی گئی تھی اور اب ہم 2025 میں ہیں۔ اب تک کافی وقت گزر چکا ہے، انتخابات بھی ہو چکے ہیں، پھر بھی بحالی کا عمل تاخیر کا شکار ہے۔”
اس پر سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ "نہ صرف پانی بلکہ خون بھی بہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات پُرامن طور پر منعقد ہوئے، تاہم پہلگام واقعہ جیسے عوامل کو ریاستی حیثیت بحال کرنے سے پہلے مدنظر رکھا جانا چاہیے، اور اس سلسلے میں مرکز اور ریاستی حکومت کے درمیان مشاورت جاری ہے۔
دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد، چیف جسٹس نے مرکز کو جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر جواب دینے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دے دی۔ —(کے این او)








