امت نیوز ڈیسک //
تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کہا کہ 10 اکتوبر وہ دن ہے جب شہیدِ ملت مولوی محمد فاروقؒ کو 1965 میں گرفتار کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی تین سال جیل کی انتہائی سختیوں میں گزارے جن کا اثر ان کی صحت پرپوری زندگی رہا۔
میرواعظ نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، کیونکہ سینکڑوں کشمیری نوجوان اور بزرگ، ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے برسوں بلکہ دہائیوں سے جیلوں میں قید ہیں، جن میں سے بہت سے صرف اختلافِ رائے رکھنے کی پاداش میں کالے قوانین کے تحت پابندِ سلاسل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جسمانی و ذہنی صحت بری طرح متاثر ہوچکی ہے اور ان کے اہلِ خانہ شدید تکالیف سے دوچار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قید میں رکھے گئے ان لوگوں میں سیاسی رہنما بھی شامل ہیں، جن میں شبیر شاہ، یاسین ملک، آسیہ اندرابی، آفتاب شاہ، اور یہاں تک کہ انجینئر رشید اور معراج ملک جیسے افراد بھی شامل ہیں جو آج بھی جیلوں میں بند ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ وہ ایک بار پھر ہندوستان کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ جناب امیت شاہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے پر انسانی اور جمہوری نقطہ نظر سے نظرِ ثانی کریں، ان قیدیوں کو رہا کریں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے جاری اس اذیت ناک صورتحال کا خاتمہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایسا قدم کشمیری عوام کے دل جیتنے اور ان کی نیک نیتی و خیرسگالی حاصل کرنے میں دور رس اثرات کا حامل ہو گا۔










