امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 23 اکتوبر : پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کو جموں و کشمیر اسمبلی میں زمین کے حقوق اور یومیہ اجرت والے ملازمین (ڈیلی ویجرز) کی باقاعدہ حیثیت سے متعلق دو اہم بلوں کی حمایت پر زور دیا۔
سرینگر میں راجیہ سبھا انتخابات کے سلسلے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے نیوز ایجنسی کشمیر نیوز کارنر (کے این سی) کو بتایا، ’’ہم نے کل پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی کے ساتھ حکمتِ عملی پر بات کی۔ فاروق صاحب نے مجھے فون کیا اور حمایت کی درخواست کی۔ میں نے ان سے کہا کہ پہلے اسمبلی میں دو بل منظور ہونے چاہییں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ زمین کے حقوق بل اور ڈیلی ویجرز ریگولرائزیشن بل مقامی باشندوں اور مزدوروں کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ’’کشمیر کے کئی ہوٹل مالکان کو بتایا جا رہا ہے کہ ان کی لیز ختم کی جائے گی اور ان کی جائیداد نیلام ہوگی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دہائیوں سے ہوٹل چلا رہے ہیں۔‘‘ محبوبہ نے کہا، ’’آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سب سے بڑا مسئلہ زمین کے حقوق کا تھا، لیکن حالیہ اقدامات اس مقصد کے برعکس ہیں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ ان کی پارٹی نے ایک بل پیش کیا ہے تاکہ مقامی باشندوں کے مکانات، دکانوں اور ہوٹلوں کی ملکیت کو قانونی حیثیت دی جا سکے۔ ’’غریب لوگ جو برسوں سے اپنے گھروں اور دکانوں میں رہ رہے ہیں، انہیں ملکیتی حقوق ملنے چاہئیں۔ اسی طرح ہوٹل جو نسلوں سے چل رہے ہیں، انہیں چھینا نہیں جانا چاہیے۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا، ’’میں نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے درخواست کی کہ وہ ہمارے بل کی حمایت کریں۔ نیشنل کانفرنس کے پاس اسمبلی میں اکثریت ہے۔ جب ہم نے بل پیش کیا تو اسے ’لینڈ جہاد‘ کہا گیا، مگر ہمیں امید ہے کہ اب اسے تعاون ملے گا۔‘‘
اسمبلی میں ووٹنگ کے حوالے سے محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی نیشنل کانفرنس کے تیسرے امیدوار شمی اوبرائے کو ووٹ دے گی تاکہ بی جے پی کو فائدہ نہ پہنچے۔ ’’ہم اپنے تین ووٹ نیشنل کانفرنس کے تیسرے امیدوار کو دے رہے ہیں تاکہ اگر بی جے پی چوتھی نشست جیتے تو الزام ہم پر نہ آئے۔‘‘
یومیہ اجرت والے ملازمین کے بل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’پانی، تعمیرات عامہ، آبپاشی، صحت اور تعلیم کے محکموں میں ہزاروں مزدور پچھلے 20 سے 25 سال سے بغیر مستقل حیثیت اور مناسب تنخواہ کے کام کر رہے ہیں۔ ان کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جانا چاہیے اور ہمارا بل اسی مقصد کے لیے ہے۔‘‘
محبوبہ مفتی نے آخر میں نیشنل کانفرنس پر زور دیا کہ وہ دونوں بلوں کو اسمبلی سے منظور کرائے تاکہ مقامی باشندوں اور ڈیلی ویجرز کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
(کے این سی)









