امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر اسمبلی کے خزاں اجلاس کے پہلے دن سابق گورنر مرحوم ستیہ پال ملک کے لیے تعزیتی قرارداد پر بحث کے دوران نیشنل کانفرنس (این سی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان کے درمیان شدید زبانی جھڑپ دیکھنے کو ملی۔
این سی کے رکن اسمبلی بشیر ویری نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرحوم ستیہ پال ملک کا 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی میں کردار ’’متنازعہ‘‘ رہا۔ اس بیان پر بی جے پی رکن شام لال شرما نے سخت اعتراض کرتے ہوئے اسپیکر سے ان الفاظ کو کارروائی سے حذف کرنے کی درخواست کی۔ تاہم اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے الفاظ حذف کرنے سے انکار کیا اور این سی رکن کو مشورہ دیا کہ مرحوم کے بارے میں احترام کے ساتھ گفتگو کریں۔
بحث کے اختتام پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ستیہ پال ملک نے جو کچھ کیا، ممکن ہے وہ اسے بھلائی سمجھ کر کیا ہو۔ ’’ہم میں سے کوئی فرشتہ نہیں۔ ہم سب سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ ملک مرحوم نے ایم ایل اے، ایم پی، مرکزی وزیر اور گورنر جیسے عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ ’’تاریخ جب لکھی جائے گی تو سب کا ذکر ہوگا۔ ہم یہ یقین رکھنا چاہیں گے کہ انہوں نے نیک نیتی کے ساتھ کام کیا۔‘‘
کانگریس قانون ساز پارٹی کے رہنما جی اے میر نے ستیہ پال ملک کو ایک ’’صاف گو‘‘ اور ’’مقبول‘‘ لیڈر قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ممکن ہے آرٹیکل 370 کی منسوخی سے انہیں فائدہ ہوا ہو، لیکن انہوں نے اس کے لیے قیمت بھی چکائی۔ ہم نے دیکھا کہ آخری ایام میں وہ سچ بولنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔‘‘
پی ڈی پی رکن اسمبلی رفیق نائک نے کہا کہ ’’اختلافات اپنی جگہ، مگر مرحوم کے بارے میں منفی گفتگو مناسب نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہمیں ان کے جانے کے بعد اچھی باتیں کرنی چاہئیں۔‘‘ نائک نے اس موقع پر اے اے پی کے گرفتار رکن اسمبلی مہراج ملک کا معاملہ بھی اٹھایا، جس پر اسپیکر نے کہا، ’’آپ تعزیتی حوالوں پر بات کر رہے ہیں، جبکہ وہ (مہراج ملک) زندہ ہیں۔‘‘
سی پی آئی (ایم) کے رکن محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ ’’تعزیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سیکھنا چھوڑ دیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’احترام اپنی جگہ، مگر عوامی ذمہ داری نبھانے والے شخص کے اعمال کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے، شائستگی کے دائرے میں رہ کر تنقید کی جا سکتی ہے۔‘‘
عوامی اتحاد پارٹی کے رکن شیخ خورشید نے کہا کہ تعمیری تنقید کی اجازت ہونی چاہیے۔ ’’ستی پال ملک آخری گورنر تھے جنہوں نے بعد میں کسانوں کے مسائل اجاگر کیے اور ایک دیانتدار سیاستدان رہے۔‘‘
بی جے پی کے رکن وکرم رندھاوا نے کہا کہ ’’5 اگست 2019 ایک تاریخی دن تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ایک عام شخص کو پانچ ریاستوں کا گورنر نہیں بنایا جا سکتا۔ بی جے پی نے ان کی صلاحیت کو پہچانا۔ یہ اتفاق ہے کہ وہ 5 اگست ہی کو دنیا سے رخصت ہوئے۔‘‘
ان کے بیان پر این سی کے ارکان نے احتجاج کیا۔ نذیر گوریزی نے کہا کہ ’’ستی پال ملک نے کچھ غیر آئینی اقدامات کیے تھے، جن کا ذکر تاریخ میں ہوگا۔‘‘ اس پر بی جے پی رکن نریندر سنگھ نے کہا کہ ’’’ایک قوم، ایک آئین‘ کا سہرا ستی پال ملک کے سر ہے۔‘‘
قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ ’’ہمیں اُن لوگوں کے خلاف کچھ نہیں کہنا چاہیے جو اب اس دنیا میں نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’کل کو ہمارے بارے میں بھی کچھ کہا جا سکتا ہے، ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ اُن کے اہل خانہ پر اس کا کیا اثر ہوگا۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اختتامی کلمات میں تمام مرحوم رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے ان میں سے کچھ کے ساتھ کام کیا، کچھ سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، مگر سب نے عوام کی خدمت کی۔‘‘
اسمبلی میں مرحوم رہنماؤں کے لیے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جن میں سابق وزیر گُلچین سنگھ چڑک، سابق ایم ایل اے دینا ناتھ بھاگت، سابق ایم ایل سی غلام نبی شاہین، رامیش اروڑا اور سردار محمد اخلاق خان شامل تھے۔
اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی پیر تک ملتوی کر دی، کیونکہ جمعہ کو راجیہ سبھا کے انتخابات ہوں گے، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو چھٹیاں ہوں گی۔








