امت نیوز ڈیسک //
جموں: چھنی راما جموں علاقے میں مبینہ غیر قانونی طور پر بسائی گئی روہنگیا بستی سے بجلی اور پانی کی فراہمی بند کیے جانے کے چند روز بعد، روہنگیا پناہ گزینوں نے علاقہ خالی کر دیا۔ حکام کے مطابق، یہ زمین راجوری ضلع کے ایک مقامی شخص کی ملکیت ہے، جہاں تقریباً 30 سے 40 روہنگیا خاندان جھگیوں میں مقیم تھے۔
ایک روہنگیا باشندے نے بتایا، ’’گزشتہ شام پولیس آئی اور ہمیں جگہ خالی کرنے کو کہا۔ ہم نے آج اپنی جھونپڑیاں ہٹا دی ہیں، مگر ہمیں معلوم نہیں کہ اب کہاں جائیں گے۔‘‘ ایک خاتون نے بتایا کہ ’’تقریباً 20 دن پہلے ہی ہماری بجلی اور پانی کی سپلائی کاٹ دی گئی تھی۔ ہم چار سال قبل جموں آئے تھے اور یہاں آباد ہوئے۔‘‘
پولیس ذرائع کے مطابق، زمین کو خالی کرائے جانے کے بعد ان روہنگیا باشندوں کو کٹھوعہ جیل کے حراستی مرکز منتقل کیا جا سکتا ہے۔ حکام نے بتایا کہ 2021 میں جموں و کشمیر انتظامیہ نے روہنگیا پناہ گزینوں کی تصدیقی مہم شروع کی تھی، جس کے تحت 271 افراد کو ہیرا نگر حراستی مرکز بھیجا گیا تھا۔ اب ان کی تعداد بڑھ کر 283 ہو گئی ہے، جن میں 60 بچے اور 84 خواتین شامل ہیں۔
تحصیلدار بہو، جموں نے پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محکموں کو نیدییش انکلیو کے قریب واقع بستی کی بجلی و پانی کی فراہمی منقطع کرنے کے احکامات دیے تھے۔ یہ کارروائی نیدییش انکلیو رہائشی فلاحی انجمن کی شکایت کے بعد کی گئی، جس میں قانون و نظم عامہ سے متعلق خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ دسمبر 2024 میں بھی انتظامیہ نے جموں کے مختلف علاقوں میں روہنگیا پناہ گزینوں کی جھگی بستیوں سے پانی اور بجلی کی فراہمی بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر میں اس وقت 13,700 سے زائد غیر ملکی شہری مقیم ہیں، جن میں اکثریت روہنگیا اور بنگلہ دیشی باشندوں کی ہے۔ 2008 سے 2016 کے درمیان ان کی آبادی میں چھ ہزار سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔








