امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے ایک "محدود مدت” مقرر کی ہے، اور اگر یہ ہدف ان کی موجودہ مدتِ حکومت کے دوران حاصل نہ ہوا تو "یہ وقت کا ضیاع ہوگا۔”
انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے کوئی ٹائم فریم مقرر کیا ہے، تو عمر عبداللہ نے جواب دیا:
“میں نے وہ مدت مقرر کی ہے جس کے دوران میں اس عہدے پر فائز ہوں۔”
مزید پوچھنے پر انہوں نے کہا، “یہ میرے اور میرے خالق کے درمیان معاملہ ہے۔”
انٹرویو کے دوران جب میزبان نے کہا کہ “لیکن آپ خدا نہیں بلکہ عوام کے جواب دہ ہیں”، تو عمر عبداللہ نے جواب دیا، “بالکل درست، میں عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔ لیکن جب وقت آئے گا تو عوام کو سب معلوم ہو جائے گا۔ میں ایسا کوئی وقت نہیں دوں گا کہ آپ میرے پیچھے اسٹاپ واچ لے کر کھڑے ہوں۔ تاہم ایک محدود مدت ضرور ہے۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ فیصلہ ان کی مدتِ حکومت ختم ہونے سے پہلے ہی ہوگا، تو عمر عبداللہ نے کہا:
“اگر یہ میری مدتِ حکومت ختم ہونے سے پہلے نہ ہوا تو یہ مکمل طور پر وقت کا ضیاع ہوگا۔ ہم نے اپنے لیے ایک واضح حد مقرر کی ہے—اگر ریاستی درجہ بحال نہیں ہوا تو یہ ہماری ناکامی ہوگی۔”
یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کو بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کر دیا تھا۔ اسی دن پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019 منظور کیا، جس کے تحت سابقہ ریاست کو دو حصوں — جموں و کشمیر (اسمبلی کے ساتھ) اور لداخ (اسمبلی کے بغیر) — میں تقسیم کر دیا گیا۔
اس فیصلے کے بعد جموں و کشمیر کا اپنا آئین، پرچم اور کئی اختیارات ختم کر دیے گئے، اور ریاست کو صدر راج کے تحت لیفٹیننٹ گورنر کے براہِ راست کنٹرول میں دے دیا گیا۔
مرکزی حکومت نے اس اقدام کو "بہتر انضمام اور ترقی” کی سمت ایک قدم قرار دیا، جبکہ نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سمیت حزبِ اختلاف نے اسے “دھوکہ” اور “آئینی حملہ” کہا۔
مرکز نے بارہا یقین دہانی کرائی ہے کہ ریاستی درجہ "مناسب وقت” پر بحال کیا جائے گا، تاہم اب تک کوئی واضح تاریخ نہیں دی گئی۔ جون 2021 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ آل پارٹی میٹنگ میں شرکت کی تھی، جہاں جلد از جلد ڈی لمیٹیشن اور انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ڈی لمیٹیشن کمیشن نے مئی 2022 میں نئی اسمبلی نشستوں کی حد بندی مکمل کی، جس سے جموں و کشمیر اسمبلی کی کل نشستیں 83 سے بڑھا کر 90 کر دی گئیں۔
فی الحال جموں و کشمیر ایک مرکزی زیرِ انتظام علاقہ ہے جس کی قیادت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کے اختیارات محدود ہیں اور یو ٹی ڈھانچے کے باعث انتظامی آزادی متاثر ہے۔









