جموںو کشمیر کی دو اسمبلی نشستوں کے ضمنی انتخابات میں ایک طرف این سی کے لیے بڈگام سیٹ وہیں بھاجپا کے لیے نگروٹہ سیٹ کو برقرار رکھنا ایک چلینج ہو گا۔
اگر بڈگام حلقے کے ضمنی انتخابات کی بات پہلے کی جائے تو گزشتہ برس وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بڈگام اور گاندربل نشستوں پر الیکشن لڑا تھا اور دونوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور بعد ازاں انہوں نے بڈگام سیٹ کو چھوڑ دیا تھا۔اس سیٹ کی خاص بات یہ ہے کہ آج تک اس سیٹ پر 1962ء سے ہوئے اسمبلی انتخابات میں این سی نے صرف ایک مرتبہ الیکشن ہارا ہے اور وہ 1972ء میں۔ اگرچہ آج تک آسانی سے این سی اس نشست پر قبضہ کرتی آئی ہے تاہم بڈگام الیکشن کی تاریخ میں این سی کو اس مرتبہ سخت مقابلے کا سامنا ہے اور اسکی کئی وجوہات بھی ہیں۔ ایک یہ کہ این سی کی اس وقت جموں کشمیر میں سرکار ہے اور اس سرکار کا ایک سال اسی ماہ مکمل بھی ہوا ہے تاہم این سی کی طرف سے جو وعدے لوگوں کو دئے گئے وہ دور دور تک پورے ہوتے نظر فی الحال نہیں آرہے۔ جن میں سیاسی معاملات تو دور این سی جہاں مفت دو سو یونٹ بجلی ،مفت گیس سلینڈر اور ایک لاکھ نوکریوں جیسے کئی وعدے دے کر اقتدار میں آئی تھی تاہم ان وعدوں کو پورا نہ کرنے پر عوامی سطح پر بھی این سی کو ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہیں دوسرا مسئلہ این سی کے سامنے اس وقت رکن پارلیمان سید آغا روح اللہ مہدی کا ہے۔ رواں برس کئی بار انہوں نے عمر عبداللہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو سیاسی وعدے دے کر این سی اقتدار میں آیی ہے ان وعدوں سے وہ منحرف ہو گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں گزشتہ برس ریزرویشن کے معاملے پر انہوں نے عمر عبداللہ کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج بھی کیا تھا جس کے بعد آغا روح اللہ اور این سی لیڈر شپ کے درمیان اختلافات بھی گہرے ہوتےگئے۔ان کی طرف سے این سی قیادت پر جاری تنقید کے بیچ جب اب ضمنی انتخابات کا وقت آن پہنچا تو انہوں نے این سی لیڈرشپ سے شرط رکھی کہ وہ تبھی ان انتخابات کی مہم میں شامل ہونے کا کوئی فیصلہ لیں گے اگر کا بینہ سب کمیٹی کی ریزرویشن رپورٹ کو منظر عام پر لایا جاتی ہے۔
تاہم اس پر عمر عبداللہ نے جواب دیا کہ سب کمیٹی کی تجویز کو ایل جی سے منظوری ملنے کے بعد ہی منظر عام پر لایا جا سکتا ہے۔وہیں تادم تحریر آغا روح اللہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔
دوسری طرف سے آغا روح اللہ کی ناراضگی کو لے کر نائب وزیر اعلی سریندر چودھری کے اس بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا جب انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے آغا روح اللہ کے متعلق کہا کہ وہ کسی آغا کو نہیں جانتے۔پھر کیا تھا بڈگام اور بانڈی پورہ میں آغا روح اللہ کے کچھ حامیوں نے احتجاج کرتے ہوئے نائب وزیر اعلی کی تصاویر کو نذر آتش کیا ۔ مرتا کیا نہ کرتا، نائب وزیر اعلی نے وضاحتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ آغا روح اللہ نہیں بلکہ بھاجپا کے آغا سید محسن کے حوالے بات کر رہے تھے۔وہیں مقامی سیاسی مبصرین کے مطابق آغا روح اللہ جتنا پارٹی کے خلاف بولیں گے اتنا پی ڈی پی کے آغاسید منتظر کو فائدہ ملے گا ۔وہیں مانا یہ بھی جا رہا ہے آغا روح اللہ خود بھی نہیں چاہتے کہ اس سیٹ پر آغا محمود کی جیت ہو۔ سیاسی مبصرین مانتے ہیں کہ انکی جیت سے آغا روح اللہ کا سیاسی گراونڈ سکھڑ جائے اور اگلے انتخابات تک جہاں وہ پارلیمنٹ میں مصروف رہیں گے وہیں یہاں انکا سیاسی گراونڈ کمزور پڑ جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آغا محمود اور آغا منتظر جن کے درمیان اس نشست پر مقابلے کی توقع ہے، آپس میں چچا بھتیجا ہیں وہیں آغا محمود آغا روح اللہ کے بھی چچا ہیں۔ اس نشست پر دیگر امیدواروں میں اپنی پارٹی کے مختار احمدڈار ،عوامی اتحاد پارٹی کے نذیر احمد خان، بھاجپا کے سید محسن اور دیگر جماعتوں کے امیدواروں سمیت 17 امیدوار میدان میں ہیں۔
نگروٹہ سیٹ بھاجپا کے لیے وقار کی جنگ
نگروٹہ سیٹ کی بات کریں تو اس نشست پر دس امیدوار میدان میں ہونگے۔بھاجپا سینئر لیڈر دویندر سنگھ رانا کی بیٹی دیویانی رانا کو مینڈیٹ دیا گیا۔ دیویانی رانی کا مقابلہ این سی کی ہی خاتون امیدوار شمیم بیگم کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ کانگریس کی جانب سے این سی اُس پیشکش کو ٹھکرانے کے بعد شمیم بیگم کو مینڈیٹ ملا جب کانگریس نے اپناامیدوار میدان میں اتارنے سے انکارکیا۔
اس سیٹ پر بی جے پی امیدوار دیویانی رانا، نیشنل کانفرنس کی شمیم بیگم اور جموں و کشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی (انڈیا) کے ہرش دیو سنگھ کے درمیان تکونی مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس حلقے میں گوجر اور راجپوت آبادی کی خاصی تعداد ہے۔ اگرچہ نیشنل کانفرنس کی شمیم بیگم، جو ڈی ڈی سی بھی رکن ہیں، ہرش دیو سنگھ، بی جے پی کے باغی انیل شرما اور عام آدمی پارٹی کے جوگندر سنگھ نے انتخابی جلسوں میں مصروف ہیں تاہم دیویانی انتخابی مہم میں ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے اپنے آنجہانی والد کی تصاویر اور نام خوب استعمال کر رہی ہیں۔ دیویندر سنگھ رانا نے 2024 کے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے امیدوار جوگندر سنگھ کو تیس ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔اس سے قبل، 2014 کے اسمبلی انتخابات میں رانا نے یہ نشست نیشنل کانفرنس کے ٹکٹ پر جیتی تھی۔ دوسری طرف سے اگر چہ جموں کے لوگ بھاجپا سے کچھ خوش دکھائی نہیں دے رہے ہیں تاہم نگروٹہ سیٹ پر دیکھنا ہو گا کہ کیا لوگ بھاجپا کی کارکردگی کو مدنظر رکھیں گے یاپھر دیویانی کا جذباتی کارڈ کام کر جائے گا۔
دونوں نشستوں پر انتخابات 11 نومبر کو ہونگے وہیں ووٹوں کی گنتی 14 نومبر کو طے ہے۔









