امت نیوز ڈیسک //
سرینگر | 31 اکتوبر: جموں و کشمیر حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد 2019 سے لے کر اب تک 631 غیر مقامی افراد نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے جموں و کشمیر میں 386 کنال سے زائد زمین خریدی ہے، جس کی کل مالیت تقریباً 130 کروڑ روپے بنتی ہے۔
یہ اعداد و شمار ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیش کیے گئے، جو اکتوبر 2019 سے 2025 کے درمیان ہونے والی زمین کی خرید و فروخت سے متعلق ہیں۔
ایم ایل اے احسان پردیسی کے پوچھے گیے سوال کے تحریری جواب میں ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ جموں ڈویژن میں 378 خریداروں نے 212 کنال، 13 مرلہ اور 128 مربع فٹ زمین خریدی، جس کی مالیت 90.48 کروڑ روپے ہے۔
جبکہ کشمیر ڈویژن میں 253 غیر مقامی خریداروں نے 173 کنال، 7 مرلہ زمین 39.49 کروڑ روپے میں خریدی۔
اعداد و شمار کے مطابق، 2020 کے بعد غیر مقامی خریداروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
2020 میں صرف 1 کنال زمین خریدی گئی،2021 میں 57 غیر مقامی افراد نے 24 کنال سے زائد زمین حاصل کی،2022 میں 127 خریداروں نے زمین خریدی،2024 میں یہ تعداد 169 تک پہنچ گئی۔
جبکہ موجودہ سال 2025 میں اب تک 158 غیر مقامی خریداروں نے 106 کنال اور 11 مرلہ زمین خریدی ہے، جس کی مجموعی مالیت 37.17 کروڑ روپے ہے۔
حکومت نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2019 سے اب تک کسی بھی غیر مقامی یا بیرونی شخص کو شاپنگ مال، اسپتال یا کالج کی تعمیر کے لیے زمین الاٹ نہیں کی گئی ہے۔






