بات جب ماحول کی آتی ہے تو ہمارے عقل و شعور میں گردونواح کا سارا عکس قید ہو جاتا ہے جس کی بدولت ہم زندگی کے مختلف نشیب وفراز سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ماحول کا توازن برقرار رکھنے میں قدرت نے پہلے ہی انتظام کررکھا تھا۔افسوس کہ انسان کی خود غرضی اور قدرتی وسائل کے بے تحاشہ استعمال نے اس کا توازن بگاڑ دیا ہے۔ہر سال پروگراموں،سمیناروں اور بیداری مہموں کا انعقاد کیا جاتا ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دن بہ دن ہم اور زیادہ خطرے کے دہانے پر پہنچتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم عملاً یہ چیزیں کرنے سے قاصر رہتے ہیں ہم نجی سطح پر کھوکھلے دعوے ہی کرتے ہیں اور جب عملانے کی بات آتی ہے تو وہاں پڑھے لکھےلوگوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کا طبقہ بھی کہیں نہ کہیں اس خرابی میں برابر کا زمہ دار دکھائی دیتا ہے۔
جنگلوں کو اگر چہ سبز سونا کہا جاتا ہے وہیں ان کے بے دریغ استعمال سے ماحول کا توازن بری طرح بگڑ گیا ہے۔ آبی زخائر جیسے ندی نالوں اور چشموں کا پانی اب پینے کے لایق نہ رہا۔میں زیادہ تر عام لوگوں کو ہی زمہ دار ٹہراتا ہوں جو کہیں نہ کہیں اپنی غلطی سرکار کے سر لگاتے ہیں یہ وسائل ہماری آسائش کے لئے ہیں اور انکا تحفظ متعین کرنا بھی ہماری زمہ داری ہے نہ کہ سرکار کی۔اگرچہ سر کار بھی اپنی طرف سے مختلف اسکیموں کے تحت مختلف کاموں اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے میں کافی تک ودو کر رہی ہے.سرکار سے میری یہی گزارش رہے گی کہ وہ نجی سطح یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ تحصیلی سطح پر ڈمپنگ سایٹس بنائے کیونکہ دن بدن بڑھتی آبادی سے نکلنے والا کوڑا کرکٹ اور کچرے کو کہیں ٹھکانے لگایا جاسکے۔ اسکے ساتھ ساتھ کوڑے دانوں کا انعقاد بھی کیا جائے تاکہ گھروں سے نکلنے والے کچرے کو کسی دور جگہ ٹھکانے لگایا جاسکے جہاں انسانوں کی آمد رفت نہ ہو۔ مگر جو زمہ داری اورفرض عوام کا بنتا ہے وہ سرکار کا نہیں بنتا۔جب تک نہ زمینی سطح پر ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانے کی سعی کی جائے تب تک یہ ساری کوششیں بے سود ثابت ہونگی۔
الغرض ہر زی حس انسان پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ زمینی سطح پر ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا کلیدی رول نبھائے تب جاکر ہم اپنی آنے والی نسلوں کا حق ادا کر سکتے ہیں تب جاکر آنے والی پود ماحول سے جڑے چیزوں سے لطف اندوز ہونگی ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہمیں پچھتاوے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوگا۔









