امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: سری نگر سے رکنِ پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے پیر کو جموں کشمیر کے طلبہ اور امیدوار نوجوانوں کو درپیش مسلسل غیر یقینی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زیر التوا معاملے کو فوراً حل کیا جائے۔
سماجی پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں روح اللہ مہدی نے سوال اٹھایا کہ حکام کو نوجوانوں کی "اذیت اور ناامیدی” سمجھنے میں آخر کیا درکار ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس تاخیر نے “پوری نوجوان نسل کا دم گھونٹ دیا ہے اور انہیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ویشنو دیوی یونیورسٹی کا تازہ واقعہ بھی حکومت کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے تھا۔
روح اللہ نے کہا کہ گزشتہ سال حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن “وہ چھ ماہ اب ایک سال میں تبدیل ہو چکے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ بڈگام اسمبلی الیکشن سے قبل حکام نے چند دنوں میں حل کی یقین دہانی کرائی تھی، “لیکن وہ چند دن اب ایک مہینے سے زیادہ ہو گئے ہیں۔”
انہوں نے سوال اٹھایا، “اگر وہ کبھی مستقبل میں اس مسئلے کو حل بھی کر لیں، جو کہ مجھے مشکل لگتا ہے، تو پہلے سے ضائع ہونے والے برسوں اور ختم ہو جانے والی اسامیوں کا ازالہ کون کرے گا؟”
مہدی نے یہ بھی پوچھا کہ کیا “ذاتی انا” اس میں رکاوٹ ہے اور کیا پوری نسل کو اس وجہ سے سزا دی جا رہی ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ماہ کے لیے خود کو اس معاملے سے الگ کر رہے ہیں تاکہ انہیں رکاوٹ نہ سمجھا جائے، اور حکومت سے اپیل کی کہ وہ طلبہ سے بات کرے اور معاملے کو منطقی انداز میں حل کرے۔
سری نگر کے ایم پی نے خبردار کیا کہ اگر پارلیمنٹ سیشن 20 دسمبر کو ختم ہونے تک مسئلہ حل نہ ہوا، تو وہ دوبارہ طلبہ کے ساتھ سڑکوں پر آئیں گے “جس طرح ہم نے گزشتہ دسمبر کیا تھا،” اور اس بار احتجاج “صرف ایک دن کا نہیں ہوگا۔”








