امت نیوز ڈیسک //
بڈگام، 1 دسمبر : نیشنل کانفرنس کے رہنما اور ایم ایل اے بیروہ، ڈاکٹر شفیع احمد وانی نے پیر کے روز بی جے پی لیڈر اور لیڈر آف اپوزیشن سنیل شرما کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں ’فاشسٹ، فرقہ پرست اور مسلم مخالف‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شری ماتا ویشنودی یونیورسٹی میں مسلم طلبہ کے داخلے پر شرما کا اعتراض ان کی ’’تقسیمی اور نظریاتی ذہنیت‘‘ کو بے نقاب کرتا ہے۔
ڈاکٹر وانی نے اس تنازعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شرما کے بیانات ایک ایسے رویے کی نمائندگی کرتے ہیں جو ’’مسلم مخالف، امتیازی اور سماجی طور پر خطرناک‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا، “اگرچہ وہ ایک ایم ایل اے ہیں اور اپنے عہدے کے لحاظ سے احترام کے مستحق ہیں، لیکن ان کی سیاست فاشسٹ اور فرقہ وارانہ ہے۔ وہ تقسیم کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہم ان سے بہتر رویے کی توقع نہیں کرسکتے۔”
این سی رہنما نے بی جے پی لیڈر پر الزام لگایا کہ وہ ایسا بیانیہ فروغ دے رہے ہیں جو بھارت کے آئینی اور جمہوری کردار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کے مطابق تعلیمی ادارے کبھی مذہب کی بنیاد پر نہیں چلائے جا سکتے۔
انہوں نے کہا، “دنیا بھر میں یونیورسٹیاں میرٹ کی بنیاد پر چلتی ہیں۔ کوئی ادارہ مذہب دیکھ کر داخلہ نہیں دیتا۔ ایسی ذہنیت ہمیں پیچھے دھکیلتی ہے اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچاتی ہے۔”
ڈاکٹر وانی نے مزید کہا کہ مسلمان شہریوں نے عالمی سطح پر تعلیم، معیشت، دفاع اور اداروں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں، اور انہیں مشکوک شناخت تک محدود کرنا ناانصافی اور خطرناک ہے۔
انہوں نے سنیل شرما کے بیان کو ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تعلیمی پالیسی کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔ “فرقہ وارانہ بیانات دینے کے بجائے انہیں اپنا ہوم ورک کرنا چاہیے اور آئین کا احترام کرنا چاہیے،” انہوں نے کہا۔
قابلِ ذکر ہے کہ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب سنیل شرما نے شری ماتا ویشنودی یونیورسٹی میں امسال پیشہ ورانہ کورس میں میرٹ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں مسلم طلبہ کے منتخب ہونے پر اعتراض کیا۔ شرما نے سوال اٹھایا کہ منتخب طلبہ کی اکثریت ایک ہی مذہبی گروہ سے کیوں ہے اور کہا کہ داخلہ پالیسی کو مزار سے منسلک ادارے کے ’’مذہبی کردار‘‘ کی عکاس ہونی چاہیے۔(کے این ٹی)










