امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق نے جامع مسجد سرینگر میں خطبہ جمعہ کے دوران دہائیوں پرانے کیسز کو دوبارہ کھولنے اور حالیہ گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں سے اُن خاندانوں میں بےچینی بڑھ گئی ہے جو سمجھتے تھے کہ ان کا ماضی پیچھے رہ چکا ہے۔
میرواعظ کا یہ بیان 1996 کے ایک پرانے کیس میں دو علیحدگی پسند رہنماؤں — جاوید احمد میر اور شکیل احمد بخشی — کی تازہ گرفتاریوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گرفتاریاں ایسے افراد کو متاثر کر رہی ہیں جو برسوں سے پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری قیدی پہلے ہی طویل قید و بند کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں اور نئی گرفتاریاں ان کے اہل خانہ کے دکھ میں اضافہ کر رہی ہیں۔ میرواعظ نے مطالبہ کیا کہ دہائیوں پرانے کیسز کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور کشمیری قیدیوں کو جموں و کشمیر کی جیلوں میں منتقل کیا جائے تاکہ انصاف کے عمل میں تیزی لائی جا سکے۔









