امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 16 دسمبر:جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (این سی) کے نو منتخب ارکانِ پارلیمان نے مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کو ایک میمورنڈم پیش کیا ہے، جس میں جموں و کشمیر کے قیدیوں کو بیرونِ ریاست جیلوں میں رکھنے سے متعلق انسانی ہمدردی کے مسائل، مکمل ریاستی درجہ کی جلد بحالی اور بزنس رولز کی نوٹیفکیشن کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
میمورنڈم، جس کی ایک نقل کشمیر ڈاٹ کام کے پاس موجود ہے، راجیہ سبھا کے ارکان چوہدری محمد رمضان، سجاد احمد کچلو اور گرندر سنگھ اوبرائے کی جانب سے پیش کیا گیا۔ ارکان نے کہا کہ اٹھائے گئے مسائل جموں و کشمیر کے عوام کے لیے “انتہائی آئینی، جمہوری اور انسانی اہمیت” کے حامل ہیں۔
این سی ارکان نے جموں و کشمیر کے ان قیدیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا جو یونین ٹیریٹری سے باہر مختلف جیلوں میں بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں خاندان، جن میں مائیں، بچے اور بزرگ والدین شامل ہیں، دوری اور مالی مجبوریوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی خاندان طویل فاصلے طے کرنے، وکیل کرنے یا اپنے قید عزیزوں سے ملاقات تک سے قاصر ہیں۔
میمورنڈم میں کہا گیا کہ ارکانِ پارلیمان کو موصول ہونے والی شکایات میں طویل اور تھکا دینے والے سفر، توہین آمیز رویّے، سخت پابندیاں اور طویل انتظار کا ذکر کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ بعض معاملات میں سنگین الزامات ثابت نہ ہونے کے باوجود بھی قیدیوں کو مسلسل حراست میں رکھا گیا ہے۔
میمورنڈم میں کہا گیا،“ایک کشمیری نہ پیدائشی مجرم ہے اور نہ ہی خطرہ۔ ایک کشمیری ایک انسان اور بھارتی شہری ہے، جو عزت، انصاف اور ہمدردی کا مستحق ہے۔”
ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کے قیدیوں کو بیرونِ ریاست رکھنے کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور جن افراد کے خلاف سنگین الزامات ثابت نہیں ہوئے، انہیں رہا کیا جائے۔
ریاستی درجہ کے معاملے پر، این سی ارکان نے وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ کی جانب سے پارلیمنٹ کے ایوان میں دی گئی یقین دہانیوں کو یاد دلایا کہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے 11 دسمبر 2023 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے بھی مرکزی حکومت کے اس موقف کو ریکارڈ پر لیا تھا کہ ریاستی درجہ جلد بحال کیا جائے گا اور جمہوری عمل، بشمول انتخابات، مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
میمورنڈم میں کہا گیا کہ انتخابات کے انعقاد اور منتخب حکومت کی تشکیل کے بعد اب جموں و کشمیر کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ سپریم کورٹ میں درج یقین دہانیوں کو پورا کیا جائے۔ ارکان نے خبردار کیا کہ ریاستی درجہ کی بحالی میں مسلسل تاخیر جمہوری، انتظامی اور جذباتی سطح پر شدید پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔
این سی ارکانِ پارلیمان نے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا کہ آئینی اصولوں اور عدالتی مشاہدات کے مطابق مکمل ریاستی درجہ کی جلد بحالی کے لیے واضح، ٹھوس اور وقت سے بندھے اقدامات کیے جائیں۔
میمورنڈم میں منتخب حکومت کے قیام کے باوجود بزنس رولز کی عدم نوٹیفکیشن کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا۔ ارکان کے مطابق بزنس رولز نہ ہونے کے باعث اختیارات میں ابہام، اختیارات کی تکرار اور انتظامی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، جس سے عوامی جوابدہی اور منتخب نمائندوں کے اختیارات متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ شفاف، ہموار اور جمہوری اصولوں کے مطابق حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے بزنس رولز کو فوری طور پر نوٹیفائی کیا جائے۔(کے ڈی سی)









