امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 25 دسمبر : مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے اناؤ ریپ کیس میں سابق بی جے پی ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کی رہائی روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے سینگر کی عمر قید کی سزا معطل کیے جانے کے ایک دن بعد سامنے آیا، جس پر ملک بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو یہ کہتے ہوئے سزا معطل کی کہ سینگر سات سال سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکا ہے، تاہم عدالت نے 15 لاکھ روپے کے مچلکے اور متاثرہ لڑکی کے گھر کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں داخلے پر پابندی عائد کی۔ متاثرہ خاندان اور سی بی آئی نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔
سی بی آئی کا مؤقف ہے کہ سینگر کی رہائی متاثرہ کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، جو برسوں سے سیکیورٹی میں زندگی گزار رہی ہے۔ واضح رہے کہ سینگر اب بھی متاثرہ کے والد کی حراستی موت کے معاملے میں دس سال کی سزا کاٹ رہا ہے، اس لیے فی الحال جیل سے رہا نہیں ہوا۔
عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی ہلچل بھی تیز ہو گئی۔ دہلی میں احتجاج کے دوران متاثرہ اور اس کی والدہ کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے پر اپوزیشن نے سخت تنقید کی۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اسے انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان قرار دیا۔
سی بی آئی نے بتایا کہ وہ جلد از جلد خصوصی اجازت درخواست (SLP) دائر کرے گی۔ اناؤ کیس کو طاقتور افراد کے احتساب کا امتحان قرار دیا جا رہا ہے، اور اب سب کی نظریں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مرکوز ہیں کہ آیا 2019 میں سنائی گئی عمر قید برقرار رہتی ہے یا نہیں۔








