جموں و کشمیر کا اس وقت کاسیاسی بیانیہ منقسم، الزام تراشیوں سے بھرا، اور بنیادی طور پر ریاستی حیثیت کی بحالی، گورننس، اور سلامتی جیسے متضاد دعووں اور مسائل کے گرد بے ہنگم انداز میں گھوم رہا ہے۔
سب سے بڑا سیاسی بیانیہ آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ ہے۔ نیشنل کانفرنس ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی جیسی علاقائی جماعتیںاگرچہ اس مطالبے کو اپنے منشور میں سرفہرست رکھی ہوئی ہیں،لیکن یہ بھی تسلیم کرتی ہیں کہ موجودہ مرکزی حکومت سے اس کی توقع حماقت ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کا مرکزی بیانیہ جموں و کشمیر کےمکمل انضمام اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے گرد گھومتا ہے۔ تاہم، ناقدین کا الزام ہے کہ بی جے پی حقیقی مسائل پر توجہ نہیں دیتی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور دیگر حکومتی عہدے داروںکی جانب سے گڈ گورننس اور ترقی کے دعووں کے برعکس، اپوزیشن جماعتیں بے روزگاری، بجلی کی قلت، اور بھرتیوں میں بے ضابطگیوں جیسے حقیقی عوامی مسائل کو لگاتار اُٹھا رہی ہیں۔
ادھرنیشنل کانفرنس کے ہی رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت کے بیچ سرد جنگ بھی زوروں پر ہے۔ دونوں کی ایک دوسرے پر درپردہ سیاسی بیان بازی بھی جاری و ساری ہے۔
تو وہیں پیپلز کانفرنس کے چیرمین سجاد غنی لون کا ہدف بس عمر عبداللہ کی کمزور قیادت رہا ہے۔وزیر اعلیٰ کے خلاف بولنے میں موصوف کوئی بھی موقع نہیں چھوڑتے۔
دریں اثنا پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا آجکل کچھ اور ہی خیال است ہے کہ چلو، نوجوانوں سے بات کرتے ہیں!اور اپنی پارٹی سربراہ الطاف بخاری بھی اپنی سیاسی پوزیشن کی بالادستی کے لیےمطابق بیان داغنےمیں کوئی کسر نہیںچھوڑتے۔
یہ سب پوائنٹ سکورنگ کی دوڑ میںلگے ہوئے ہیں تاکہ جموں و کشمیر کے باسیوں کو یہ یقین دلاسکیں کہ بس ہم اکیلے آپ کی امیدوں کے پاسبان؛وہ اُمیدیں جو اب ٹوٹ کے بکھر چکی ہیں۔بقول مرزاغالبؔ ؎
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے