کشمیر ایک طویل عرصے سے سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے مسائل کا شکار رہا ہے۔ بدقسمتی سے اس کے اثرات صرف وادی تک محدود نہیں رہے بلکہ بیرونِ ریاست رہنے والے کشمیری طلبہ، مزدور اور تاجر بھی اکثر تعصب، بدسلوکی اور ہراسانی کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ ایک نہایت تشویشناک رجحان ہے جو نہ صرف انسانی اقدار کے منافی ہے بلکہ ملکی یکجہتی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
بیرونِ ریاست کشمیریوں کو اکثر صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات کسی شدت پسند واقعے کے بعد کشمیریوں کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ان پر حملے، زبانی بدسلوکی، سماجی بائیکاٹ اور حتیٰ کہ گھروں سے بے دخل کیے جانے جیسے واقعات سامنے آتے ہیں۔ خاص طور پر تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ اس تعصب کا زیادہ شکار ہوتے ہیں، جہاں انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں یا زبردستی ہوسٹل خالی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا بھی بعض اوقات اس نفرت کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور اشتعال انگیز بیانات عام عوام کے ذہنوں میں کشمیریوں کے خلاف غلط تصورات پیدا کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک عام کشمیری شہری، جو اپنے مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ریاست جاتا ہے، خود کو غیر محفوظ اور تنہا محسوس کرتا ہے۔
اس ضمن میںکشمیریوں کو ہراساں کرنے کے حالیہ واقعات نہایت تشویشناک اور افسوسناک ہیں۔ یہ واقعات نہ صرف انسانی اقدار اور آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ ملک کے مختلف خطوں کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ریاستی حکومت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اور مؤثر اقدامات کے ذریعے صورتحال کو قابو میں لائے۔ اگر بروقت اور سخت کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو ریاستی عوام کے اعتماد میں مزید کمزوری پیدا ہوگی، جس کے نتیجے میں حالات کی مزید ابتری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
شملہ میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اس امر کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ بعض انتہا پسند عناصر دانستہ طور پر کشمیر کی معیشت کو نشانہ بنانے کے درپے ہیں۔ بالخصوص اُن کشمیری تاجر طبقوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے جو صدیوں سے موسمِ سرما میں ان علاقوں کا رخ کرتے اور وہاں تجارت کے ذریعے نہ صرف اپنا روزگار کماتے ہیں بلکہ مقامی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ ایسے عناصر کی جانب سے یہ منظم کوشش دراصل معاشی دباؤ کے ذریعے کشمیری عوام کو کمزور کرنے کی سازش معلوم ہوتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں مل کر واضح اور دوٹوک پیغام دیں کہ کسی بھی شہری کو اس کی شناخت، علاقے یا قومیت کی بنیاد پر نشانہ بنانا ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قانون کی عملداری، متاثرین کو تحفظ اور مجرموں کو سزا ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے اعتماد کی فضا بحال کی جا سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر نفرت اور عدم تحفظ کا یہ سلسلہ نہ صرف کشمیری عوام بلکہ مجموعی قومی یکجہتی کے لیے بھی سنگین خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔