• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جنوری ۲۳, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
احساس و ہمدردی سے عاری لوگ

کاروانِ علم و عزیمت کا حدی خواں: مولانا ابوالحسن علی ندویؒ

الطاف جمیل شاہ

by امت ڈیسک
03/01/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

​تاریخ کے ماتھے پر کچھ شخصیات کا نقشِ قدم محض یادگار نہیں ہوتا، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیسویں صدی کے فکری ارتعاشات اور اسلامی دنیا کے سیاسی و نظریاتی بحرانوں کے درمیان مولانا ابوالحسن علی ندویؒ ایک ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت بن کر ابھرے، جنہوں نے مشرق و مغرب کے فکری تصادم میں امتِ مسلمہ کو احساسِ کمتری کی دلدل سے نکال کر "احساسِ برتری” اور "داعیانہ وقار” عطا کیا۔

​فکرِ ندوی: ماضی اور حال کا سنگم

​مولانا کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا تجدیدی شعور تھا۔ انہوں نے صرف ماضی کی داستانیں نہیں سنائیں، بلکہ تاریخ کے مردہ جسم میں روحِ عصر پھونکنے کا ہنر سکھایا۔ جب انہوں نے "انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر” لکھی، تو درحقیقت وہ صرف ایک کتاب نہیں تھی، بلکہ وہ امتِ مسلمہ کے مفقود (lost) اعتماد کی بازیافت تھی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اسلام کا زوال صرف مسلمانوں کا نقصان نہیں، بلکہ پوری انسانیت کی اخلاقی خودکشی کے مترادف ہے۔

​عرب و عجم کا سفیرِ بے مثال

​گزشتہ دو دہائیوں کے فکری مشاہدے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مولانا کا قلم کسی جغرافیائی سرحد کا اسیر نہیں تھا۔ وہ رائدِ ہند (ہندوستان کا ہراول دستہ) تھے جنہوں نے سرزمینِ عرب کے فکری جمود کو اپنی عربی دانی اور سحر بیانی سے جھنجھوڑا۔ ان کی تحریروں میں جہاں حجاز کی تڑپ ملتی ہے، وہی ہند کے علمائے ربانی کی بصیرت کا عکس بھی نظر آتا ہے۔ وہ دیوبند اور ندوہ کے سنگم پر کھڑے ایک ایسے مصلح تھے، جن کی پکار "یا اَیُّھَا الْعَرَبُ” (اے اہل عرب!) سے لے کر برصغیر کے گلی کوچوں تک یکساں تاثیر رکھتی تھی۔

​تاریخِ دعوت و عزیمت: ایک فکری شاہکار

​مولانا نے جب "تاریخِ دعوت و عزیمت” کے نام سے علم و تحقیق کا دفتر کھولا، تو امت پر یہ حقیقت واضح کی کہ اسلام کی بقا صرف ظاہری حکومتوں کی مرہونِ منت نہیں رہی، بلکہ ہر عہد میں مصلحین اور ربانی علماء نے اپنے خونِ جگر سے اس چراغ کو روشن رکھا ہے۔ انہوں نے امام احمد بن حنبلؒ کی استقامت سے لے کر حضرت مجدد الف ثانیؒ کی جرات تک، حق و صداقت کے اس تسلسل کو اس طرح بیان کیا کہ پڑھنے والا خود کو اس عظیم زنجیر کی ایک کڑی محسوس کرنے لگتا ہے۔

​سوزِ دروں اور قلبِ گداختہ

​مولانا علی میاںؒ کے ہاں علم محض معلومات کا انبار نہیں تھا، بلکہ وہ ایک سوزِ دروں سے عبارت تھا۔ ان کی تحریروں میں جو دردمندی اور دل گدازی ملتی ہے، وہ کسی خشک فلسفی کے ہاں ناپید ہے۔ وہ دورِ حاضر کے فتنوں کا جواب مناظرانہ تلخی کے بجائے "دعوتی نرمی” اور "حکمتِ بالغہ” سے دینے کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ دلوں کی تسخیر کے لیے زبان کے چٹخارے نہیں، بلکہ روح کی پاکیزگی اور فکر کا اخلاص درکار ہے۔ ان کی دعائیں اور ان کی تحریریں دونوں ہی رقت آمیز تھیں، جیسے کوئی مشفق باپ اپنی اولاد کی گمراہی پر تڑپ رہا ہو۔

​تحریکِ پیامِ انسانیت: انسانیت کا منشور

​مولانا کی فکر کا ایک روشن گوشہ ان کی "تحریر پیامِ انسانیت” تھی۔ انہوں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ نفرتوں کے اس دور میں جب انسان انسان کا دشمن بن چکا ہے، اسلام کے عالمگیر پیغامِ محبت کی اشاعت ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے مذہب، رنگ اور نسل سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت اور اخلاقی قدروں کی بحالی کا بیڑہ اٹھایا۔ ان کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کے لیڈر نہیں تھے، بلکہ پوری انسانی برادری کے ہمدرد اور خیر خواہ تھے۔

​موجودہ تناظر میں مولانا کی اہمیت

​آج جب مسلکی تعصبات اور نظریاتی انتہا پسندی نے ہماری صفوں میں خلیج پیدا کر دی ہے، مولانا ندویؒ کا فکر ایک نسخہِ کیمیا کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی شخصیت "جامعیت” کا بہترین نمونہ تھی۔ وہ بیک وقت مؤرخ بھی تھے، ادیب بھی، مربی بھی اور داعی بھی۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ اسلام کی حفاظت صرف قلم سے نہیں، بلکہ بلند کردار اور وسعتِ ظرفی سے بھی ہوتی ہے۔ ​ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم نے اس عہد میں سانس لی جس کی فضاؤں میں مولانا کی فکر کی خوشبو آج بھی رچی بسی ہے۔ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پُر کرنے کی واحد صورت یہی ہے کہ ان کے فکری توازن، ان کی وسعتِ قلبی اور ان کی دعوتی تڑپ کو مشعلِ راہ بنایا جائے۔

​مفکرِ اسلام کی شخصیت کا خلاصہ ان اشعار میں پنہاں ہے ؎

​ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
تیرے مقام کو انجم شناس کیا جانے
کہ تو ہلال نہیں، مہرِ عالم آرا ہے

حجازِ مقدس: مرکزِ عقیدت اور منبعِ نور

(ان کے ایک یادگار سفر کی روداد )

​مولانا علی میاں ندویؒ کے لیے سرزمینِ حجاز صرف زیارت گاہ نہیں تھی، بلکہ وہ اسے امتِ مسلمہ کا "دھڑکتا ہوا دل” قرار دیتے تھے۔ جب وہ پہلی بار 1947ء میں دیارِ حرم پہنچے، تو ان کی کیفیت ایک ایسے پیاسے کی تھی جسے صدیوں بعد چشمہِ حیوان میسر آ گیا ہو۔ ان کے سفر نامے، خصوصاً "کاروانِ مدینہ”، محض مشاہدات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عاشقِ رسول ﷺ کے دل کی دھڑکنیں ہیں۔

​جزیرۃ العرب کو جھنجھوڑنا

​مولانا کا سفرِ حجاز ایک داعیانہ مشن تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر امت کا مرکز یعنی عرب دنیا فکری اور اخلاقی طور پر مستحکم ہو جائے، تو پورا عالمِ اسلام سنبھل سکتا ہے۔ انہوں نے عرب علماء اور حکمرانوں کے سامنے نہایت دردِ دل سے یہ حقیقت رکھی کہ ان کی اصل طاقت تیل یا دولت نہیں، بلکہ وہ "ایمان و عقیدہ” ہے جو غارِ حرا سے طلوع ہوا تھا۔ ان کا وہ تاریخی خطاب جو انہوں نے مدینہ منورہ میں دیا، جس کا عنوان تھا "یا اَیُّھَا الْعَرَبُ!”، آج بھی تاریخ کے ایوانوں میں گونج رہا ہے۔ اس میں انہوں نے عربوں کو ان کا وہ مقام یاد دلایا جو فراموش ہو چکا تھا۔

​روضہِ رسول ﷺ پر حاضری اور روحانی کیفیات

​مولانا کی شخصیت کا جمال ان کی "حبِ نبوی ﷺ” میں پوشیدہ تھا۔ مدینہ منورہ کی گلیوں میں چلتے ہوئے ان پر جو وجدانی کیفیت طاری ہوتی تھی، وہ ان کے قلم سے الفاظ بن کر ٹپکتی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ مدینہ کی ہواؤں میں وہ خوشبو ہے جو روح کو معطر کر دیتی ہے۔ ان کے نزدیک حجاز کا سفر ایک "تجدیدِ عہد” کا سفر تھا۔ وہ وہاں سے وہ تپش لے کر لوٹتے تھے جسے وہ ہندوستان اور پوری دنیا میں بانٹتے رہے۔ ان کی کتاب "نقوشِ اقبال” میں بھی حجاز کے حوالے سے وہی تڑپ نظر آتی ہے جو علامہ اقبال کے ہاں "ارمغانِ حجاز” میں ملتی ہے۔

​عربی ادب اور حجازی اسلوب

​مولانا نے اپنے قیامِ حجاز کے دوران وہاں کے اکابر سے ملاقاتیں کیں اور اپنی فصیح و بلیغ عربی سے اہل زبان کو حیران کر دیا۔ ان کی تصنیف "ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین” (انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر) کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب اس کا وہ "حجازی لہجہ” اور عربی اسلوب تھا، جس نے مصری اور شامی ادیبوں کو بھی اعترافِ حقیقت پر مجبور کر دیا۔

​خلاصہِ سفر

​مولانا کا سفرِ حجاز درحقیقت ایک "روحانی ہجرت” کی مانند ہوتا تھا۔ وہ جب بھی حجاز سے واپس آتے، ان کے فکر میں ایک نیا عزم اور ان کی دعوت میں ایک نئی کاٹ پیدا ہو چکی ہوتی۔ ان کا ماننا تھا کہ عالمِ اسلام کی ہر تحریک کی کامیابی کا راستہ "مکہ اور مدینہ” کی فکری وابستگی سے ہو کر گزرتا ہے۔

​مفکرِ اسلام کی اس تڑپ کو اقبال کے اس شعر میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے جو مولانا کو بہت عزیز تھا:؎

​خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہِ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

​آخری سفر

​مولانا کی وفات کا دن 31 دسمبر 1999ء) کو ہوئی ہے ــ یہ ایک ایسا دن تھا جب پوری دنیا نئے ہزاریے کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھی، لیکن قدرت نے اپنے اس برگزیدہ بندے کے لیے ایک ابدی اور نورانی سفر کا انتخاب فرمایا۔

​اس آخری دن کی کیفیت بھی بڑی عجیب تھی۔ مولانا روزے سے تھے، غسل فرمایا، مسواک کی، نئے کپڑے پہنے اور خوشبو لگائی—جیسے کسی بڑی ملاقات کی تیاری کر رہے ہوں۔ جمعہ کا دن تھا اور وہ سورۂ کہف کی تلاوت میں مصروف تھے کہ اچانک اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ تلاوتِ قرآن اور جمعہ کے مبارک دن روزے کی حالت میں رخصت ہونا، ان کی زندگی بھر کی للہیت اور قبولیتِ بارگاہِ الہیٰ کی کھلی علامت تھی۔

​ایک عہد کا اختتام اور عالمِ اسلام کا سوگ

​ان کی وفات کی خبر جب پھیلی تو ایسا محسوس ہوا جیسے پورے عالمِ اسلام سے یتیمی کا سایہ گزر گیا ہو۔ مکہ مکرمہ ہو یا مدینہ منورہ، قاہرہ ہو یا کابل، ہر جگہ صفِ ماتم بچھ گئی۔ وہ شخصیت جس نے پوری زندگی "اتحادِ امت” کا علم بلند رکھا، اس کے جنازے نے بھی کالے گورے، عرب و عجم اور مختلف مسالک کے لوگوں کو ایک صف میں کھڑا کر دیا۔

​رائے بریلی کے تکیہ کلاں میں جب انہیں سپردِ خاک کیا گیا، تو وہ صرف ایک جسدِ خاکی نہیں تھا جو زمین کے سپرد ہو رہا تھا، بلکہ علم و حکمت کا وہ سمندر تھا جو اب ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو رہا تھا۔

​وفات کے بعد کا خلا اور ہماری ذمہ داری

​مولانا کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا، وہ آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسے "بیدار مغز مفکر” تھے جو امت کے ہر مرض کی نبض پہچانتے تھے۔ ان کے جانے کے بعد ہماری صفوں میں وہ توازن، وہ علمی وقار اور وہ عالمی داعیانہ اسلوب کمزور پڑ گیا ہے جس کی بنیاد انہوں نے رکھی تھی۔

​آج ان کی وفات پر آنسو بہانے سے زیادہ ضروری ان کے چھوڑے ہوئے "فکری ترکے” کی حفاظت ہے۔ ان کا قلم خاموش ہو چکا ہے، لیکن ان کی تحریریں آج بھی پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ امت کی بقا صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت میں ہے، اور اس کے لیے ہمیں اپنے اندر وہی "سوزِ دروں” پیدا کرنا ہوگا جو مولانا کا طرۂ امتیاز تھا۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

جموں و کشمیر کے سرکاری تعلیمی ادارے تشویشناک صورتحال میں ”تعلیم کا اجالا یا انتظامیہ کی تاریکی؟ یو ٹی کے تعلیمی نظام پر ایک نوحہ’’

Next Post

والدین کے ساتھ بد سلوکی تربیت میں کمی یا فرمان برداری کا زوال۔۔۔۔۔!‎

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

کٹھوعہ انکاؤنٹر اپڈیٹ: غیر ملکی ملیٹنٹ ہلاک، سرچ آپریشن جاری: فوج

کٹھوعہ انکاؤنٹر اپڈیٹ: غیر ملکی ملیٹنٹ ہلاک، سرچ آپریشن جاری: فوج

23/01/2026
سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی بجٹ 2026-27 سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورتی نشست

سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی بجٹ 2026-27 سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورتی نشست

23/01/2026
برفباری سے راحت بھی، مشکلات بھی: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

برفباری سے راحت بھی، مشکلات بھی: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

23/01/2026
امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی اختیار کر لی، ہیڈ کوارٹر سے اپنا جھنڈا بھی ہٹا دیا

امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی اختیار کر لی، ہیڈ کوارٹر سے اپنا جھنڈا بھی ہٹا دیا

23/01/2026
وادی میں بجلی کا لوڈ 100 میگاواٹ سے بھی کم، آندھی کے باعث 33 کے وی فیڈرز شدید متاثر

وادی میں بجلی کا لوڈ 100 میگاواٹ سے بھی کم، آندھی کے باعث 33 کے وی فیڈرز شدید متاثر

23/01/2026
خراب موسم کے باعث پیر پنجال کے دونوں اضلاع میں اسکول بند

خراب موسم کے باعث پیر پنجال کے دونوں اضلاع میں اسکول بند

23/01/2026
Next Post
حوصلہ شکنی کے بجاۓ حوصلہ افزائی کیجئے ہر شخص جینے کا حق رکھتا ہے۔۔۔!‎

والدین کے ساتھ بد سلوکی تربیت میں کمی یا فرمان برداری کا زوال۔۔۔۔۔!‎

ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

خدارا شور نہ مچائیے

خدارا شور نہ مچائیے

ایران میں بدامنی کے پیش نظر کشمیری طلبہ کی سلامتی: جے کے ایس اے کی وزیر اعظم مودی کو فوری مداخلت کی اپیل

ایران میں بدامنی کے پیش نظر کشمیری طلبہ کی سلامتی: جے کے ایس اے کی وزیر اعظم مودی کو فوری مداخلت کی اپیل

امریکہ کا وینزویلا پر حملہ، ٹرمپ کا دعویٰ، ہم نے وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو قبضے میں لیا

امریکہ کا وینزویلا پر حملہ، ٹرمپ کا دعویٰ، ہم نے وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو قبضے میں لیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »