آر ایس ایس والے بی جے پی والوں کے پتا شری ہیں۔اور آر ایس ایس کے پتا شری ’ویر ‘ ساورکر ،گولوالکر ،ہیڈگوار ہیں۔مگر ویر ساورکر انگریزوں کے خاص آدمی تھے۔مافیاں مانگ کر جیل سے باہر آتے ۔انگریزوں کی خدمت کرتے اور خدمت کے صلے میں پنشن پاتے۔wikepedia لکھتا ہے کہ ویر ان کا خود ساختہ اعزاز تھا ۔شاید انگریزوں سے مانگی ہوئی معافی پر ان کے ضمیر کو جو خلش تھی اس کو انھوں نے اس طرح تسکین دی ہو۔یہ بات زبان زد خاص وعام ہے اور ریکارڈ پر بھی ہے کہ ہندتو کے ویروں نے مجاہدین آزادی کی مخبری کی تھی۔آج یہی لوگ میڈیا بلکہ گودی میڈیا کے بل پر دیش بھکت بنے ہوئے ہیں اور ہندو مذہب کے ٹھیکے دار بھی ،اور لوگوں کو دیش بھکتی کے سرٹیکفکٹ بھی بانٹ رہے ہیں ۔جبکہ ان کا دیش بھکتی سے کچھ لینا دینا ہے نہ ہندو دھرم سے۔یہ سب کے سب برہمنزم کے ٹھیکے دار ہیں اور یہی ان میں اور کانگریس میں نکتہء اتفاق ہے ۔آپ دیکھیں ،تحقیق کریں ۔آر ایس ایس کے بنیاد گزار اصل میں کانگریسی تھے۔اسی لئے ’’چاچا ‘‘ نہرو سردار پٹیل کی ایک نہ سنتے ،اور RSS کو وزیر داخلہ سردارپٹیل کے پنجوں سے بچاتے رہے۔
ساورکر ،گولوالکر، ہیڈگوار ،مونجے یہ سب کے سب برہمن تھے۔اور آر ایس ایس برہمن مفادات کے تحفظ کے لئے ہی وجود میں لائی گئی تھی۔یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے ہے کہ جن مغلوں نے ان کے مفادات کا تحفظ دوسروں سے بڑھ کر کیا ،یہ آج انھیں کے پیچھے پڑے ہیں ۔اس کی وجہ شاید یہودی خمیر ہے ۔انھیں سناتن دھرم یا ہندو مذہب سے کچھ لینا دینا ہے نہ دیش سے۔اگر یہ واقعی دیش بھکت ہوتے تو مین اسٹریم ہندوستانیوں سے کٹ کر انگریزوں کی خدمت نہ کرتے۔وہ بھی اس حد تک کہ مجاہدین آزادی کی مخبری کرنے لگ جائیں۔ان کے اعزہ و اقربہ نے کتابیں لکھیں جس میں عوام الناس کو یہ سمجھایا گیا کہ فی الوقت ہمارے لئے انگریز راج کیوں ضروری ہے ۔آج بھی ان کے دیش پریم کا حال یہ ہے کہ ۵۲ سال تک RSS کے ہیڈکوارٹرپر ملک کا جھنڈا پہرانے سے گریز کرتے رہے۔دوسری طر ف یہی لوگ مسلمانوں کی عمارتوں اور عید گاہوں پر ترنگا لہرانے کے لئے تشدد کا راستہ اختیار کرتے رہے۔یہ علی الاعلان ملک کے دستور کو نہیں مانتے ۔مگر دوسروں سے دستور یا دھرم کے بارے میں سوالات کرتے رہتے ہیں۔یہ ملک کی بنیادی پالیسی سیکولرزم سے نفرت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔جن قوموں کو جن باتوں کے لئے دستوری تحفظات حاصل ہیں وہ بھی طاقت کے بل پر سلب کر لئے گئے ہیں۔آئین میں ہر قوم کے پرسنل لا کو تحفظ دیا گیا ہے مگر انھوں نے مسلمانوں کے پرسنل لا کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔آئین کی نئی دفعہ place of worship act1991 کے تحت ۱۹۴۷سے پہلے موجود ہر مسجد کا تحفظ(بابری مسجد کے سوا)حکومت کی ذمے داری ہے ۔اب حکومتیں کیا ،عدالتیں بھی ان کے تحفظ سے تہی دست ہیں۔آزادیء اظہار رائے کا بھی جنازہ اٹھ گیا ہے ۔تنقید کرنے والوں کو یہاں بھی سعودی عرب کی طرح جیل بھیج دیا جاتا ہے ۔دوسری طرف سناتن دھرم سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں۔انھوں نے اپنے مفادات کے لئے باشندگان وطن میں اونچ نیچ قائم کر رکھی ہے جو ان میں تفرقے کی بنیاد ہے ۔دلت پچھڑے اور پسماندہ طبقات کو ایک آدھ نمائشی عہدہ دے کر بہلایا جاتا ہے ۔سناتن دھرم کے وید کہتے ہیں کہ خدا کا کوئی آکار نہیں شبیہ نہیں۔اس کے جیسا اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔مگر لوگوں کو بانٹنے کے لئے انھوں نے ڈھیروں خدا بنا رکھے ہیں۔ویدک گرنتھوں میں نہ رام کا کوئی تصور ہے نہ برہمن کا۔مگر اپنے مفاد کے لئے انھوں نے یہ سب ایجاد کر رکھا ہے ۔اسی طرح ویدک دھرم میں گائے کی قربانی دینے کا رواج عام تھا۔
یہ ہیں وہ حالات جن میں روز بروز یہ اندیشہ قوی سے قوی تر ہوتا جا رہا ہے کہ ملکی سالمیت خطرے میں ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک ایک نہیں کئی تقسیم کی زدمیں ہے۔بچا صرف عوام سکتی ہے مگر عوام کو فرقہ پرستی کا نشہ زبردستی پلایا جارہا ہے ۔قریب ۸۰ فی صد عوام ہندو مسلم سے تنگ آچکے ہیں مگر مصنوعی طریقوں سے الکشن جیت کے ان کی آوا زکو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔کہیں نہ کہیں سے یہ خبر آہی جاتی ہے کہ چینی اژدھا لداخ کشمیر اور اروناچل پردیش میں اپنے پنجے گاڑ رہا ہے ۔اس بزدلی کی سزا یہ ملک کی اقلیتوں کو کسی نہ کسی شکل میں دیتے ہیں۔جس طرح کھسیانی بلی کھمبا نوچتی ہے۔بالکل اسی طرح یہ کمزور اقلیتوں کو نوچتے ہیں۔اور بالکل پرواہ نہیں کرتے کہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی شبیہ کا کیا ہوگا؟صیہونیوں کی طرح یہ بھی اپنے آپ کو chosen people of international communityسمجھتے ہیں۔جس طرح نتن یاہو نے اسرائیل کے تعلق سے عالمی ہمدردی ختم کردی ہے لگتا ہے اسی طرح مودی جی بھی پاکستان کے مقابلے ہماری وہ نقاب تار تار کرکے چھوڑیں گے ۔اب بین الاقوامی منفی رد عمل آنا شروع ہوچکے ہیں۔
قریب ۱۷۔۱۸ سال پہلے دارالعلوم دیوبند سے فارغ ایک مولانا UPSC امتحان میں کامیاب ہوگئے۔آزادی کے بعد چونکہ میاں بھائیوں کوکوئی بڑی قابل فخر خوشی تو ملتی نہیںاس لئے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا اس بڑے پیمانے پر جشن منایا جاتا ہے کہ جیسے یہ کوئی نرالی کامیابی ہو جو زندگی میں پہلی بار اللہ نے عطا کی ہو۔مولانا کی کامیابی کا جشن بھی ایسے منایا گیا جیسے آزاد ہندوستان میں کوئی پہلی بار بیوروکریسی میںداخل ہورہا ہو۔بمبئی میں سب سے پہلا اور سب سے بڑا استقبالیہ مولانا کو حج ہاؤس میں دیا گیا ۔پھر ایک سال تک پورے مہاراشٹر میں ان کے استقبالیہ پروگرام چلتے رہے ۔مقررین نے بلکہ موقعے پہ چوکا لگانے والوں نے تاثر یہ دیا کہ یہ اکیلا بیوروکریٹ پورے بھارت کے فرقہ پرستوں پر غالب آجائے گا۔یا کم سے کم مسلمانوں پر سے ظلم و ستم کا خاتمہ ہو جائیگا ۔ہمارے مقررین کو یہ شعور ہی نہیں ہوتا کہ ان کی اس بے جا چیخ و پکار کے نتائج صاحب اعزاز اور قوم کے حق میں کیا نکلیں گے ؟دو تین سال پہلے کی خبر کے مطابق مولانا کو بمبئی ہی کے کسی زون میں ایڈیشنل انکم ٹیکس کمشنر بنا کر بٹھا دیا گیا ہے۔کرلو قوم کی خدمت۔چیخ و پکار نہ ہوتی تو شاید وہ کہیں کے کلکٹر بن جاتے اور کسی نہ کسی حد تک قوم کی خدمت بھی کر رہے ہوتے۔اب لیڈروں کو ان کا نام بھی شاید یاد نہ ہو۔
بالکل یہی ماجرا آج مفتی شمائل ندوی صاحب کے ساتھ بھی ہے۔۲۰ دسمبر کے بعد ان کی شہرت کو چار چاند لگ گئے ہیں۔عام انسانی نفسیات کے مطابق وہ اس سے محظوظ بھی ہو رہے ہیں۔یقینا انھوں نے جاوید اختر کو شکست دینے کے لئے بڑی محنت بھی کی تھی ۔مگر ان کی فتح کا یہ جشن بس اس دن شام تک ہی ہونا تھا ،وہ بھی بس اپنے اساتذہ کے ساتھ۔افسوس کہ حسب عادت میاں بھائیوں نے اسے دیر تک اور شور مچا مچا کرمنانے کا فیصلہ کر لیا۔اور یوں انھوں نے کھسیانی بلی کو کھمبا نوچنے کا بہانہ فراہم کر دیا۔حالانکہ مفتی صاحب کی فتح کا جشن دنیاکے تمام مذہب پرستوں کو منانا چاہئیے،مگر ایسا ہوتا نہیں۔بہرحال اس شور نے انھیں ڈاکٹر ذاکر نائک ۔مولانا کلیم صدیقی اور عمر گوتم کی طرح (حالانکہ موخر ذکر دونوں حضرات خاموشی سے کام کر رہے تھے مگر کامیا بی کی زیادتی نے انھیں کافی شہرت بخش دی تھی ۔ایک اور وجہ بھی ہوسکتی ہے جس کا ذکر یہاں مناسب نہیں)فرقہ پرستوں کی نظروں میں خار بنا دیا ۔گزشتہ اتوار کو Zee News پر ان کے خلاف ڈیبیٹ بھروادیا گیاجس میں ہندوؤں کے تمام پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ مسلم نام کے کچھ لوگ بھی مفتی صاحب کی شان میں رطب اللسان تھے ۔معلوم نہیں کب کا دیش اور دین کے تعلق سے ان کے بیان کی جگالی کرکے کوسنے اور دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔اب سوال یہ ہے کہ وہ لوگ جو مفتی صاحب کی فتح پر شور مچا مچا کر جشن منا رہے ہیں انھوں نے ذاکر نائک کے لئے ،مولانا حضرات کے لئے کیا کرلیا؟یا مفتی صاحب کو بھی اگر کسی بہانے داخل زنداں کر لیا گیا تو وہ یا ہم کیا کرلیں گے؟وطن عزیز کے مسلمانوں میں کفرکے فتوے بانٹنے والوں،تکبیر اور رسالت کے نعرے مارنے والوں کا ایک گروہ ہے ۔ان کے حضرت مولانا توقیر رضاخاں جو کہ امام احمد رضا خاں کے پڑپوتے ہیں ایک لمبے عرصے سے جیل میں بند ہیں۔اور ان کی بولتی بند ہے۔اس لئے ہم تو بس دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ مفتی صاحب کو دشمنوں سے توبچائے ہی تکلیف میں مبتلا کرنے والے دوستوں سے بھی بچائے۔انھیں بھی نصیحت ہے کہ پھونک پھونک کر قدم رکھیں۔








